پی ڈی ایم اے کا پنجاب میں سیلابی صورتحال پر الرٹ، کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ معمول کی سطح پر ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی پانی کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 40 ہزار کیوسک جبکہ چشمہ کے مقام پر 2 لاکھ 90 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آج یوم استحصال کشمیرمنایا جارہا ہے
پی ڈی ایم اے کے مطابق نارووال میں نالہ ڈیگ کنگرا، نالہ بسنتر اور شکر گڑھ کے بئین میں بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، جبکہ نالہ ڈیگ کنگرا میں پانی کا بہاؤ 13 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے پیش گوئی کی ہے کہ مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ بالائی کیچمنٹ ایریاز میں متوقع بارشوں کے باعث مشرقی دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ نے خبردار کیا ہے کہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔
انہوں نے دریاؤں کے کناروں اور پاٹ میں موجود شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب نے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں، جہاں متاثرین کو رہائش، خوراک، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں گی۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی کہ موسم اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں، نہروں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری آمدورفت اور سیروتفریح سے گریز کریں، جبکہ بچوں کو ہرگز پانی میں نہانے کی اجازت نہ دی جائے۔