لاہور ہائیکورٹ: انسانی سمگلنگ کیس میں تفتیشی معیار پر سوالات، ایف آئی اے کو بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے انسانی سمگلنگ سے متعلق مقدمے میں 10 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ انسانی سمگلنگ جیسے بین الاقوامی جرائم کی تحقیقات محض شکوک و شبہات کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتیں۔
آزاد کشمیر انتخابات: 27 جولائی کو عام تعطیل کا اعلان، پہلے مرحلے کی پولنگ ہوگی
عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بیرونِ ملک شواہد کے حصول کے لیے متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے قانونی تعاون حاصل کرنا چاہیے تھا تاکہ تحقیقات کو مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایسے مقدمات میں واٹس ایپ چیٹس، کال ریکارڈ، بینک ریکارڈ، سفری دستاویزات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کرنا ناگزیر ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ تحقیقات کا معیار ایسا ہونا چاہیے جو ملزم کے جرم میں دانستہ اور فعال کردار کو قانونی طور پر ثابت کر سکے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انسانی سمگلنگ جیسے جرائم سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے قوانین میں اصلاحات، مضبوط قانون سازی اور جدید تقاضوں کے مطابق تفتیشی نظام ضروری ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ صرف کسی بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونا انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں بن سکتا، جبکہ محض شبہ، قیاس آرائی یا بینک ٹرانزیکشن کی بنیاد پر کسی شخص کو اس جرم کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے مقدمے میں ملزم محمد طاہر کو 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔



