Gas Leakage Web ad 1

آزاد کشمیر کا مستقبل الیکشن سے جڑا، عوام دو تہائی اکثریت دلوائیں تو آئینی ترمیم لائیں گے: بلاول

0

میرپور: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میرپور آ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اپنے دوسرے گھر آیا ہوں، پیپلز پارٹی کا میرپور کے عوام سے تین نسلوں پر محیط رشتہ ہے اور وہ اپنے بزرگوں کی جدوجہد کو آگے بڑھاتے ہوئے عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے۔

Gas Leakage Web ad 2

میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ انتخاب عام الیکشن نہیں بلکہ تاریخ کا اہم ترین انتخاب ہے کیونکہ عوام کے فیصلے سے آزاد کشمیر کا مستقبل وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا اور ملک کو ایٹمی قوت بنایا، جبکہ صدر آصف علی زرداری نے صوبوں کو ان کے حقوق دے کر تاریخ رقم کی۔

انہوں نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو حقِ حاکمیت دلانے کے لیے پرعزم ہیں اور آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق کے لیے بھی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ سندھ یا پنجاب نہیں بلکہ کشمیری عوام خود کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر عوام انہیں دو تہائی اکثریت دیتے ہیں تو وہ آئینی ترمیم لائیں گے، آزاد کشمیر کی این ایف سی میں نمائندگی یقینی بنانے کی کوشش کریں گے اور او آئی سی میں بھی کشمیری عوام کی مؤثر نمائندگی کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز فیصلہ ساز اداروں میں ہونی چاہیے جبکہ اختلافِ رائے قوموں کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے۔

کامن ویلتھ گیمز 2026: پاکستان کی شرکت، قومی وقار یا محض نمائشی موجودگی؟

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال بہتر بنانے کے لیے انہوں نے وفاقی حکومت اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ حقائق سامنے آئیں، ذمہ داروں کا تعین ہو اور اگر کسی نے غلطی کی ہے تو اس کا فیصلہ بھی کمیشن کرے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک ان کی تجویز کا کوئی جواب نہیں دیا گیا، حالانکہ یہی موجودہ بحران سے نکلنے کا بہترین راستہ ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر احتجاج کرنے والے ناراض ہیں تو اس کی سزا آزاد کشمیر کے عوام کو نہ دی جائے۔ انہوں نے مظاہرین سے پرامن احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پورے کشمیر کو سزا دینا پرانا طریقہ کار ہے اور میرپور سمیت دیگر علاقوں کا کوئی قصور نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی بندش انتہائی افسوسناک ہے اور یہ عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ انہوں نے صدر آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ وہ الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر پوچھیں کہ انٹرنیٹ بند ہونے کی صورت میں شفاف انتخابات کیسے ممکن ہوں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر عوام انہیں کامیاب بنائیں تو وہ حالات کو بہتر کریں گے۔ انہوں نے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک وفاقی وزیر کا بیان انتہائی نامناسب تھا مگر پارٹی قیادت نے اس کی مذمت تک نہیں کی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ وفاقی وزیر اپنے متنازع بیان پر معافی مانگیں یا عہدہ چھوڑ دیں، بصورت دیگر اسے مسلم لیگ (ن) کی پالیسی تصور کیا جائے گا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کوئی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کون کشمیری ہے اور کون نہیں، میرپور اور راولاکوٹ بھی کشمیر کا حصہ ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ کشمیری عوام ان کے ساتھ ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.