سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت ہوا، جس میں اوگرا، پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ حکام نے مختلف امور پر بریفنگ دی۔
چیئرمین اوگرا بیرسٹر نبیل اعوان نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے جعلی کلیمز اور تیل کے ذخائر سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ قیمتوں میں اضافے کے دوران ذخیرہ اندوزی کا رجحان سامنے آتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قیمتیں بڑھنے کی صورت میں ٹینکرز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ موٹروے کی حدود سے باہر کھڑے ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 35 دنوں کا اسٹاک خریدا ہوا ہے جو اب بھی غائب ہے۔
اجلاس میں ایران سے تیل خریدنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سوال کیا کہ حکومت ایران سے تیل کیوں نہیں خرید رہی؟ جس پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد ہو گئی ہیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ یہ معاملہ قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم میں اٹھایا جائے گا۔
چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خراب سروس کوالٹی پر پی ٹی اے نے چار ارب روپے کے جرمانے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کی 9 ہزار سائٹس پر چوری کی وارداتیں ہو چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگر کسی صارف نے پیکج خریدا اور سروس بند ہونے کے باعث استعمال نہ کر سکا تو حکومت کی ہدایت پر رقم واپس کرنا پڑتی ہے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ سروسز کی فراہمی میں لوڈشیڈنگ اور امن و امان کی صورتحال رکاوٹ ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ ملک میں فائیو جی سروس شہریوں تک پہنچانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق فائیو جی آکشن میں کامیاب ہونے والی ایک کمپنی نے اپنے ٹاورز دوسری کمپنیوں کو فروخت کر دیے ہیں۔
انہوں نے ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے یہ بل سوشل میڈیا پر دیکھا اور اپنے عملے سے پوچھا کہ اس میں پی ٹی اے کا کیا کردار ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی اے کو اس بل کے حوالے سے پہلے سے علم نہیں تھا۔
ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندے نے اجلاس میں بتایا کہ انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث سروس کا معیار متاثر ہو رہا ہے، جبکہ کراچی سمیت بڑے شہروں میں مرکزی مقامات پر نئے انفراسٹرکچر کی تنصیب میں مشکلات ہیں۔
سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ نجی املاک کو زبردستی شہریوں سے حاصل نہیں کیا جا سکتا اور عوام کے ساتھ زبردستی کے عمل کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سیکرٹری آئی ٹی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو ٹیلی کام سیکٹر کے لیے بلا تعطل توانائی کی فراہمی کا منصوبہ تیار کرے گی۔ کمیٹی تین ماہ میں اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
چیئرمین پی ٹی اے نے ای سم کے حوالے سے بتایا کہ ای سم کو دس مرتبہ مفت دوسرے موبائل پر منتقل کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس کی قیمت 1500 روپے تک مقرر کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طلب میں اضافہ ہونے کے بعد ای سم کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ موبائل فونز پر ٹیکس عائد کرنے میں پی ٹی اے کا کوئی کردار نہیں، بلکہ یہ اختیار ایف بی آر کے پاس ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں سالانہ ڈھائی کروڑ موبائل فون تیار کیے جا رہے ہیں، تاہم موبائل فونز پر زیادہ ٹیکس فائیو جی کے استعمال میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
اجلاس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹر عبدالقادر کی جانب سے سول سروسز میں بلوچستان کا کوٹہ بڑھانے کے بل کی مخالفت بھی کی۔