(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک): لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے خاتون کو مبینہ بلیک میلنگ اور نازیبا ویڈیو کیس میں ناقص تفتیش اور تفتیشی افسر کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سی پی او فیصل آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے درخواست کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت تفتیشی افسر عدالت میں پیش نہ ہوا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اتنے حساس نوعیت کے مقدمے میں نہ مؤثر تفتیش کی گئی اور نہ ہی فرانزک شواہد اکٹھے کیے گئے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ سنگین الزامات کے باوجود فرانزک تجزیہ کیوں نہیں کرایا گیا اور تفتیش کے بنیادی تقاضے کیوں پورے نہیں کیے گئے۔
پنجاب: موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہیٹ ویو اور حبس میں اضافے کا خدشہ
ملزم عثمان عرف کاکا کی جانب سے وکیل عرفان کلار نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اصل ملزم کو بچانے کے لیے صرف ہم نام ہونے کی بنیاد پر اسے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نازیبا ویڈیو کے ذریعے خاتون کو بلیک میل کرنے کے الزامات بے بنیاد ہیں اور استغاثہ کے پاس درخواست گزار کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔
وکیلِ صفائی نے استدعا کی کہ درخواست گزار کو بلاجواز مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے، اس لیے اس کی درخواستِ ضمانت منظور کی جائے۔
عدالت نے ناقص تفتیش اور تفتیشی افسر کی عدم پیشی پر سی پی او فیصل آباد کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی۔