مختلف امراض کے برعکس ڈیمینشیا ایک ایسا مرض ہے جس میں دماغ بتدریج تنزلی کا شکار ہوتا ہے اور اس کے علاج کے آپشنز بھی محدود ہیں۔
کچھ ادویات کی مدد سے اس مرض کے پھیلاؤ کی رفتار کو کسی حد تک سست کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کے اثرات محدود ہوتے ہیں اور فی الحال ڈیمینشیا کا مکمل علاج دستیاب نہیں۔
اگرچہ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی شخص سو فیصد ڈیمینشیا سے بچ سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس مرض کے تقریباً 45 فیصد کیسز کو صحت مند طرزِ زندگی کی عادات کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔
ایران اور امریکا معاہدے کے فالو اپ پر مثبت پیش رفت جاری ہے،عاصم افتخار
اس حوالے سے ورزش کو سب سے مؤثر عادت قرار دیا جاتا ہے، اور اچھی بات یہ ہے کہ اس کے لیے جم جانے یا میراتھون دوڑنے کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف چہل قدمی بھی ہر عمر میں دماغ کو صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
چہل قدمی دماغ کی جانب خون کے بہاؤ کو بڑھاتی ہے اور ان حصوں کو فائدہ پہنچاتی ہے جو یادداشت سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ ڈیمینشیا کے مریضوں میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی صلاحیت یادداشت ہی ہوتی ہے۔
اس حوالے سے ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ 9800 قدم چلنے سے ڈیمینشیا کا خطرہ 51 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
جرنل جاما میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 78 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ان کی طرزِ زندگی کی عادات کے دماغ پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 9800 قدم چلنا دماغی صحت کے لیے مثالی ہے، تاہم صرف 3800 قدم چل کر بھی ڈیمینشیا سے متاثر ہونے کا خطرہ 25 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اس تحقیق میں کم چہل قدمی کرنے والے افراد کی دماغی صحت کا موازنہ زیادہ چہل قدمی کرنے والوں سے کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ 3800 قدم چلنے سے بھی ڈیمینشیا کے خطرے میں کمی آ سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ چہل قدمی تیز رفتاری سے کی جائے۔
محققین نے بتایا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ چلنے کی رفتار میں سستی آئندہ سات برسوں میں دماغی تنزلی کے خطرے کی نشاندہی کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب چلنے کی رفتار کم ہونے لگتی ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ جسم کے مختلف نظام پہلے کی طرح معمول کے مطابق کام نہیں کر رہے۔
اسی طرح اگر کسی فرد کو چلتے ہوئے اکثر گرنے کا سامنا ہو یا چہل قدمی کے دوران سانس پھولنے کی وجہ سے بات کرنا مشکل ہو جائے تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق خوش آئند بات یہ ہے کہ عمر چاہے جتنی بھی ہو، چہل قدمی کو معمول بنانے سے دماغی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والے معمر افراد چہل قدمی کو اپنی روزمرہ عادت بنا لیں تو ان کی دماغی صحت بہتر ہونے لگتی ہے اور وقت کے ساتھ قدموں کی تعداد میں اضافہ کرکے وہ اپنی دماغی صحت کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔