Gas Leakage Web ad 1

ہیومن پلیسینٹا کیس، ایف آئی اے کی تحقیقات میں بڑے انکشافات

0

زچگی کے بعد ضائع ہونے والے انسانی پلیسینٹا کو لاکھوں روپے مالیت کے اینٹی ایجنگ انجکشن بنانے میں استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ایف آئی اے کی تحقیقات میں لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں ایک مبینہ نیٹ ورک کا سراغ ملا ہے، جبکہ کسٹمز اور ویسٹ منیجمنٹ کمپنیوں کے ممکنہ کردار کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

جو انسانی پلیسینٹا عموماً طبی فضلہ سمجھ کر تلف کر دیا جاتا ہے، اسے مبینہ طور پر بیرونِ ملک بھجوا کر بڑھتی عمر کے اثرات کم کرنے والے مہنگے اینٹی ایجنگ انجکشن تیار کیے جا رہے تھے۔ ایف آئی اے کی تحقیقات میں اس مبینہ نیٹ ورک سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

مری ایکسپریس وے کو مظفرآباد تک توسیع دینے کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق انسانی پلیسینٹا سے تیار کیے جانے والے اینٹی ایجنگ انجکشن کی پاکستانی مارکیٹ میں قیمت تقریباً سات لاکھ روپے تک ہے، جبکہ لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں مبینہ ایجنٹس کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے۔

تحقیقات کے دوران ویتنام بھیجی جانے والی 100 کلوگرام پلیسینٹا کی کھیپ روک لی گئی، جبکہ کسٹمز اہلکاروں کے ممکنہ کردار کے ساتھ ساتھ ویسٹ منیجمنٹ کمپنیوں کی ممکنہ شمولیت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق مختلف اسپتالوں سے ہر ماہ تقریباً 200 کلوگرام پلیسینٹا اکٹھا کیا جاتا تھا۔ ایف آئی اے نے راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور پشاور کے تقریباً 200 اسپتالوں کو بھی شارٹ لسٹ کر لیا ہے، جہاں سے مزید شواہد اور ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور نیٹ ورک سے جڑے تمام کرداروں کا تعین کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایف آئی اے نے اس کیس میں گرفتار پانچ ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے ان کا مزید ایک روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.