Gas Leakage Web ad 1

آزاد کشمیر میں امن وامان برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے: چیف سیکرٹری

0

آئی جی پولیس آزاد کشمیر لیاقت علی ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اقدامات سے ریاست میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق احتجاج کے دوران اسلام آباد پر مارچ کی باتیں کی گئیں جبکہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے لوگوں تک اسلحہ بھی پہنچایا گیا۔

Gas Leakage Web ad 2

چیف سیکرٹری نے کہا کہ ایڈوانس انکم ٹیکس کے خاتمے کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا کیونکہ اس سے اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے ضروریات پوری کرنے کے لیے 20 سے 25 ارب روپے فراہم کیے جبکہ آٹے اور بجلی کی قیمتوں کے معاملے پر عوامی ہمدردی حاصل کی گئی۔ ان کے مطابق قابلِ عمل مطالبات پر عملدرآمد کیا گیا لیکن اس کے باوجود احتجاج جاری رکھا گیا۔

فیلڈ مارشل و وزیرِاعظم کی قیادت میں پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا: خواجہ آصف

انہوں نے کہا کہ مطالبات میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا اور صورتحال یہاں تک پہنچی کہ آزاد کشمیر میں سامان لے جانے والے ایک ٹرک کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کے مسئلے کو بھی احتجاج کا جواز بنایا گیا۔

چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ مظفرآباد اور میرپور ریجن کے عوام نے انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور واضح کیا کہ دھرنے میں شریک افراد سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے دھرنے کے شرکاء سے خود کو قانون کے حوالے کرنے کی اپیل بھی کی۔

اس موقع پر آئی جی پولیس آزاد کشمیر لیاقت علی ملک نے کہا کہ نوجوانوں کو اسلحہ کے ساتھ ریاست پر حملوں کے لیے تیار کیا گیا اور بعض عناصر آزاد کشمیر کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق راولاکوٹ میں ایک بڑے واقعے کی منصوبہ بندی کی گئی، ایک پولیس اہلکار کو شہید کیا گیا اور اس کی لاش کی بے حرمتی کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کو شناختی کارڈ دیکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ پولیس، سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر حملے کیے گئے اور فوجی شہداء کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کی گئی۔

لیاقت علی ملک نے بتایا کہ اب تک 572 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کی شہادت میں ملوث ملزمان بھی حراست میں لیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کی آڑ میں تشدد، دھمکیاں، سرکاری ملازمین کا اغوا اور قومی پرچم کی بے حرمتی جیسے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چند مخصوص عناصر ایک خاص ایجنڈے کے تحت سرگرم ہیں اور ایک مسلح گروہ ریاست کے خلاف مورچہ بند ہے۔ ان کے مطابق حالیہ واقعات میں پولیس کے 4 اہلکار شہید جبکہ 97 زخمی ہوئے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.