Gas Leakage Web ad 1

عالمی معائنہ کاروں کو جوہری مقامات کا دورہ کرانے کا ارادہ نہیں: اسماعیل بقائی

0

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے ہر مرحلے پر اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے، اور ایران کا جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات کا دورہ کروانے کا کوئی ارادہ نہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ منجمد اثاثوں کے استعمال پر کسی قسم کی پابندی قبول نہیں کی جائے گی اور یہ فنڈز مکمل آزادی کے ساتھ ایران کی قومی ترجیحات کے مطابق استعمال ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان رقوم کے استعمال کے طریقہ کار پر کسی بیرونی شرط کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

آزاد کشمیر میں امن وامان برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے: چیف سیکرٹری

انہوں نے کہا کہ یہ تنازع ایران کی تہذیب اور قومی شناخت کو نقصان پہنچانے کی کوششوں سے جڑا ہوا ہے، جبکہ منجمد فنڈز کا استعمال بھی ایران اپنی قومی پالیسی کے مطابق ہی کرے گا۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر جنگ میں طاقت ثابت نہ ہو تو معاہدے کے بعد مبالغہ آرائی کے ذریعے بھی اسے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق معاہدے حقیقت اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں اور خود ساختہ دعوؤں پر قائم رہنا ممکن نہیں ہوتا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ماضی کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے گھڑی گئی کہانیاں مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی حقیقت پسندی اور ذمہ دارانہ رویے سے وابستہ ہوتی ہے، جبکہ خودپسندانہ بیانیہ مذاکرات اور باہمی اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل کو جنوبی لبنان میں حملے روکنے پر مجبور کرنا ہوگا کیونکہ اسرائیلی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں جنگ کے خاتمے کا معاملہ سابق اور موجودہ معاہدوں کا حصہ ہے، جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں اسرائیل اور لبنان سے متعلق حتمی معاملات طے پانے کا امکان موجود ہے۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی چار فریقی مذاکراتی نشست تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی۔ ان کے مطابق وقفے کے بعد ایرانی وفد نے براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کیے بلکہ بات چیت کو بالواسطہ مذاکرات کی صورت میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ ثالثوں کے ذریعے جاری رکھا، جبکہ مذاکراتی عمل میں ایران، امریکہ، قطر اور پاکستان کے نمائندے شریک تھے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.