کراچی: امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ایران نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور تجارت بڑھانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
دو ماہ کے دوران ایران کا دوسرا بڑا تجارتی وفد فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) پہنچا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کے فروغ پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان
ایران نے پاکستان میں ایل پی جی اسٹوریج منصوبوں اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی کے رہنما محمد علی حیدر کے مطابق معاہدے پر دستخط ایف پی سی سی آئی میں منعقدہ تقریب کے دوران ہوئے۔ ایرانی وفد میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ سرمایہ کاروں، چاول درآمد کنندگان اور دیگر کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
محمد علی حیدر کے مطابق مکمل جنگ بندی کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں ایرانی سفیر اور وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ کے درمیان ملاقات بھی ہوئی، جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور سرحدی تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے متعلقہ وزارتوں کے ساتھ درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق ایران نے پاکستان کو وسطی ایشیائی ممالک تک تجارتی رسائی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو طے شدہ 10 ارب ڈالر کی سطح تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
قیصر احمد شیخ کے مطابق پاکستان اور ایران نے اقتصادی تعاون میں اضافے پر اتفاق کیا ہے اور سرحدی تجارت کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں روزانہ سرحد پار کرنے والے تجارتی ٹرکوں کی تعداد 2000 تک بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو بھی سراہا گیا۔