سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ سالانہ 51 ارب روپے اضافی آمدن پیدا کر سکتا ہے، سپارک
اسلام آباد: بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم سپارک (SPARK) نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں سگریٹ پر عائد ٹیکس میں اضافہ کیا جائے، کیونکہ اس اقدام سے نہ صرف تمباکو نوشی میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ سالانہ 51 ارب روپے تک اضافی ریونیو بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
بجٹ 27-2026: حکومت کا امپورٹ کی جانیوالی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنےکا فیصلہ
سپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد نے پاکستان کو درپیش صحت عامہ اور مالیاتی چیلنجز کے تناظر میں تمباکو پر مؤثر ٹیکس پالیسی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی شواہد واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ تمباکو مصنوعات پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے سے ان کا استعمال کم ہوتا ہے۔ اس سے حکومتی آمدن میں اضافہ، صحت کے اخراجات میں کمی اور قابلِ روک تھام اموات کی شرح میں نمایاں کمی ممکن ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت تمباکو کے استعمال کے ایک بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق ملک میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ بالغ افراد کسی نہ کسی شکل میں تمباکو مصنوعات استعمال کرتے ہیں۔ تمباکو سے منسلک بیماریوں کے باعث ہر سال ایک لاکھ 92 ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، یعنی روزانہ اوسطاً 526 اموات تمباکو نوشی سے جڑی بیماریوں کے سبب واقع ہوتی ہیں۔ ان بیماریوں میں دل کے امراض، مختلف اقسام کے کینسر اور سانس کی پیچیدہ بیماریاں نمایاں ہیں۔
سپارک کے مطابق سگریٹ پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کی شرحوں میں فروری 2023 کے بعد کوئی نمایاں تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس دوران ملک میں مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوا، ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی رہیں اور عوامی قوتِ خرید متاثر ہوئی، لیکن سگریٹ کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں۔ نتیجتاً، خاص طور پر کم قیمت سگریٹ برانڈز حقیقی معنوں میں پہلے سے زیادہ قابلِ خرید ہو گئے، جس سے نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد میں تمباکو کے استعمال کے امکانات میں اضافہ ہوا۔
ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا کہ تمباکو کے استعمال کا معاشی بوجھ انتہائی سنگین ہے۔ پاکستان میں تمباکو سے منسلک بیماریوں کے علاج اور صحت کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً ایک ہزار 835 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو ملکی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 1.6 فیصد بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تمباکو سے حاصل ہونے والا سالانہ ٹیکس ریونیو صرف 266 ارب روپے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو تمباکو سے ٹیکس کی مد میں حاصل ہونے والے ہر ایک روپے کے بدلے تقریباً سات روپے تمباکو سے متعلق بیماریوں کے علاج اور دیگر اخراجات پر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر سپارک نے تجویز دی ہے کہ کم قیمت سگریٹ برانڈز پر فی پیکٹ 35 روپے جبکہ پریمیم برانڈز پر 21 روپے اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے۔ تنظیم کے مطابق اس اصلاحاتی اقدام کے ذریعے بتدریج یکساں ٹیکس نظام کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکے گی، جبکہ صارفین کو سستے برانڈز کی طرف منتقل ہونے سے بھی روکا جا سکے گا۔
سپارک کے تجزیے کے مطابق مجوزہ ٹیکس اضافے کے نتیجے میں حکومت کو سالانہ تقریباً 51 ارب روپے اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، اس اقدام سے تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار نوجوان سگریٹ نوشی شروع کرنے سے باز رہ سکتے ہیں، جبکہ 2 لاکھ 70 ہزار موجودہ تمباکو نوش افراد سگریٹ چھوڑنے یا اس کا استعمال کم کرنے کی جانب مائل ہو سکتے ہیں۔
تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمباکو پر زیادہ ٹیکس عائد کرنا عالمی سطح پر تسلیم شدہ مؤثر حکمت عملی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC) اور MPOWER حکمتِ عملی بھی یہی تجویز کرتی ہیں کہ تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ان کے استعمال کو کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
سپارک کے مطابق تمباکو ٹیکس میں اضافہ دوہرا فائدہ فراہم کرتا ہے۔ ایک جانب یہ عوامی صحت کے تحفظ، بیماریوں اور اموات میں کمی کا باعث بنتا ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت کے لیے اضافی مالی وسائل پیدا کرتا ہے، جنہیں صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تمباکو ٹیکس پالیسی کو صحتِ عامہ اور مالیاتی استحکام کے وسیع تر قومی مفاد کے تناظر میں ازسرِ نو مرتب کیا جائے۔