پاکستان میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے، سپارک
اسلام آباد: سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) نے نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (این سی آر سی) کے اشتراک سے عالمی یومِ انسدادِ چائلڈ لیبر 2026 کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا، جس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے حکومت، پارلیمان، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ اور مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔
بجٹ 27-2026: حکومت کا امپورٹ کی جانیوالی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنےکا فیصلہ
اس سال عالمی یومِ انسدادِ چائلڈ لیبر کا موضوع "چائلڈ لیبر کو ریڈ کارڈ: بچوں کے لیے منصفانہ کھیل، بالغوں کے لیے باعزت روزگار” رکھا گیا، جس کا مقصد اس حقیقت کو اجاگر کرنا تھا کہ بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے صرف قانونی اقدامات کافی نہیں بلکہ بالغ افراد کے لیے باعزت روزگار، سماجی تحفظ اور معیاری تعلیم کی فراہمی بھی ناگزیر ہے۔
پارلیمانی کاکس برائے اطفال حقوق (پی سی سی آر) کی کنوینر ڈاکٹر نکہت شکیل خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے پاکستان کا مستقبل ہیں اور ان کا تحفظ پائیدار قومی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی سی آر بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی کو مضبوط بنانے، پالیسی فریم ورک کو بہتر بنانے اور نگرانی کے مؤثر نظام کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے حکومت، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور دیگر تمام متعلقہ فریقین کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا، جبکہ غربت، معیاری تعلیم تک محدود رسائی اور کمزور سماجی تحفظ جیسے بنیادی اسباب کا تدارک بھی ضروری ہے۔
قومی اسمبلی کی رکن ڈاکٹر شازیہ صبیہ اسلم سومرو نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے مضبوط نظام اور موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے بغیر چائلڈ لیبر کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو معاشی مجبوریوں کے تحت مزدوری پر مجبور کرنے کے بجائے انہیں محفوظ ماحول، معیاری تعلیم اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کے مطابق سماجی تحفظ کے پروگراموں میں توسیع، اسکولوں میں داخلوں اور حاضری کی شرح میں اضافہ اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں بچوں کو محرومی کے اس چکر سے نکالنے کے لیے مستقل سیاسی عزم اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
قومی اسمبلی کے رکن ریاض فتیانہ نے کہا کہ بچوں کے حقوق کو قومی پالیسی سازی میں ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر دراصل گہرے سماجی و معاشی عدم مساوات اور طرزِ حکمرانی سے متعلق مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے کے خاتمے کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک، مؤثر نفاذ، نگرانی کے بہتر نظام اور تعلیم و سماجی تحفظ کے شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری ضروری ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ، سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ہر بچے کے لیے محفوظ اور روشن مستقبل کی فراہمی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
سپارک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر آسیہ عارف نے چائلڈ لیبر کے خلاف اجتماعی طور پر "ریڈ کارڈ” دکھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سپلائی چینز، ہوٹلوں، آٹو موبائل ورکشاپس اور اینٹوں کے بھٹوں سمیت مختلف شعبوں میں بچوں سے مشقت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط قانونی نفاذ، سماجی تحفظ میں توسیع، پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) پر عمل درآمد اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-اے کے تحت معیاری تعلیم تک رسائی کو یقینی بنائے بغیر اس چیلنج پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ ان کے مطابق بچوں کی فلاح و بہبود اور ترقی پر زیادہ اور مستقل سرمایہ کاری ایک منصفانہ، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔
سپارک کے پروگرام منیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ اس سال کا عالمی موضوع ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب تک بالغ افراد کو باعزت روزگار، مناسب اجرت اور مؤثر سماجی تحفظ میسر نہیں ہوگا، اس وقت تک بہت سے بچے استحصال اور جبری مشقت کا شکار ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر بچوں سے ان کا بچپن، تعلیم اور مستقبل کے مواقع چھین لیتی ہے، اس لیے اس مسئلے کے حل کے لیے جامع معاشی اور سماجی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (این سی آر سی) کی رکن نادیہ بی بی نے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات کریں اور ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ اسی موقع پر سینٹر آف لیبر ریسرچ (سی ایل آر) سے وابستہ ماہر سوبیہ احمد نے جبری مشقت کے خاتمے سے متعلق پائیدار ترقی کے ہدف ایس ڈی جی 8.7 پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی وعدوں کی تکمیل کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔
تقریب میں سپارک کے چلڈرن کلبز کے اراکین نے بھی بھرپور شرکت کی اور بچوں سے مشقت میں مصروف اپنے ہم عمر بچوں کو درپیش مشکلات اور مسائل کو اجاگر کیا۔ بچوں نے تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا کہ انہیں استحصال سے محفوظ رکھنے اور محفوظ، باوقار اور خوشحال بچپن کی فراہمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ریاست سے اپیل کی کہ انہیں تعلیم، ترقی اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مستقبل میں پاکستان کی ترقی میں مثبت اور فعال کردار ادا کر سکیں۔
تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے صرف علامتی بیانات کافی نہیں بلکہ مربوط پالیسیوں، مؤثر قانون سازی، مضبوط نفاذ، سماجی تحفظ کی توسیع اور معیاری تعلیم تک سب کی رسائی کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ پاکستان کے ہر بچے کو ایک محفوظ، باوقار اور روشن مستقبل میسر آ سکے۔