صحت اور سائنس سے متعلق ایک نئی تحقیق میں مائیگرین (آدھے سر کے درد) کے اثرات پر اہم انکشاف کیا گیا ہے، جس کے مطابق یہ مسئلہ دماغی عمر بڑھنے کی رفتار کو تیز کر سکتا ہے۔
جرنل *برین کمیونیکیشنز* میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مائیگرین کے مریضوں کے دماغ میں ایسی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جو وقت کے ساتھ برقرار رہتی ہیں اور دماغی عمر جسمانی عمر کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔
گلگت بلتستان کیلئے ترقیاتی بجٹ میں اضافے کی تیاری، 27 فیصد سے زائد اضافہ تجویز
ماہرین کے مطابق مائیگرین ایک عام مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں تقریباً 20 فیصد افراد کو متاثر کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ طویل مدت میں دماغی صحت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں 110 مائیگرین کے مریضوں اور 70 صحت مند افراد کا موازنہ کیا گیا۔ ان تمام افراد کے ایم آر آئی اسکینز کیے گئے اور دماغ کے 400 سے زائد حصوں کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج کو ایک کمپیوٹر ماڈل کے ذریعے دماغی عمر کے اندازے کے لیے استعمال کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ مائیگرین کے مریضوں میں دماغی اور جسمانی عمر کے درمیان اوسطاً 4.24 سال کا فرق پایا گیا، جبکہ دائمی مائیگرین (ماہ میں 15 یا اس سے زائد دن سر درد) کے مریضوں میں یہ فرق زیادہ نمایاں تھا۔
مزید تجزیے میں دماغ کے 66 ایسے حصے بھی سامنے آئے جن میں عمر بڑھنے کی علامات نسبتاً تیز تھیں، جن میں درد کو محسوس کرنے، جذبات کو کنٹرول کرنے اور سوچنے سمجھنے سے متعلق علاقے شامل تھے۔
تاہم محققین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ نتائج ابتدائی نوعیت کے ہیں اور ابھی یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہو سکا کہ مائیگرین براہِ راست دماغی عمر بڑھنے کا سبب بنتا ہے یا اس کے پیچھے دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیگرین کے دوران دماغ میں بار بار ہونے والی تبدیلیاں، نیند کی خرابی، ذہنی دباؤ اور جسمانی سوزش جیسے عوامل مل کر طویل مدت میں دماغی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔