Gas Leakage Web ad 1

سب کے نیفے میں پسٹل چلا دیں؟

ملک سلمان

0

سب کے نیفے میں پسٹل چلا دیں؟
خادم حسین بننا ہے یا یزید؟
قاتل افسران کس کے پیروکار ؟

Gas Leakage Web ad 2

پاکستان میں سالانہ ریپ (ذنا بالجبر) کے سات ہزار کیسز درج کرائے جاتے ہیں جبکہ بیس ہزار کے قریب واقعات عزت کے ڈر سے دبا دیے جاتے ہیں۔
ہزاروں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی جیسا سنگین جرم کیا جاتا ہے اور کرنے والے مرد ہیں تو پھر حکومتی اور سرکاری آمرانہ سوچ کے مطابق زیادتی کی روک تھام کا واحد حل یہی ہے کہ سب کے نیفے میں پسٹل چلا کر سارے مرد نامرد کردیے جائیں، بلکہ ستھرا پنجاب کے ورکرز کے زیعے ان کو ڈائریکٹ زہر دیا جائے یا گولیاں مار کر ہلاک کردیا جائے ؟
پاکستان میں سالانہ پانچ لاکھ روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ تیس ہزار افراد کی اموات ہوتی ہیں جبکہ ہزاروں زندگی بھر کیلئے اپاہج ہوجاتے ہیں۔ اس نقصان سے بچنے کیلئے فوری طور پر سڑکیں کھود دینی چاہئے اور ہر قسم کی ٹرانسپورٹ پر پابندی لگا دینی چاہئے؟
پاکستان میں لڑائی جھگڑوں اور دشمنیوں میں سالانہ پندرہ ہزار افراد کا قتل کیا جاتا ہے انسان کیونکہ قتل کرکے بدامنی پھیلا سکتا ہے اس لیے تمام مرد و زن کو مار دینا چاہیے؟
اگر چند انسانوں کی غلطی کی سزا تمام شہریوں اور انسانوں کو نہیں دی جاسکتی تو پھر کتا کاٹنے کے چند واقعات کی وجہ سے تمام کتوں کی نسل کشی کا کیا جواز ہے؟
پاکستان میں کتا کاٹنے کے محض چند سو کیسز حقیقی ہیں جبکہ ہزاروں اور لاکھوں کی جعلی اور فرضی تعداد صرف معصوم کتوں کے ناحق قتل کو جسٹیفائڈ کرنے کیلئے بنائی جاتی ہے ۔
پنجاب خاص طور پر لاہور میں جس بے دردی اور سفاکیت سے معصوم کتوں کو مارا جا رہا ہے، حیوانیت اور فرعونیت کی انتہا ہے۔
اس حیوانیت، درندگی، سفاکیت اور فاشزم کے ماحول میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین کا فیصلہ انسانیت کی جیت اور اس مقدس ہستی حسین کے نام کی لاج ہے۔
ایک سفر کے دوران امام حسینؓ کا گزر ایک ایسے باغ کے پاس سے ہوا جہاں ایک کتا موجود تھا اور وہ پیاس کی شدت سے نڈھال تھا۔
باغ میں موجود غلام نے کتے کی حالت زار دیکھی تو اسے پیاس بجھانے کے لیے پانی پیش کیا۔ غلام کی بے زبان پیاسے کتے سے ہمدردی و شفقت سے متاثر ہو کر، حضرت امام حسین نے اس غلام کے اچھے اخلاق کے صلے میں اس کے مالک سے بات کر کے اسے آزاد کروا دیا اور باغ بھی اسی غلام کے نام کروا دیا۔
معصوم جانوروں سے پیار اور رحم دلی ہی نبوی ﷺ راستہ اور حسینی سوچ ہے جبکہ ان معصوم جانوروں پر ظلم کرنے والے یزیدی سوچ اور نظریات کے پیروکار ہیں۔
اے اللہ معصوم اور بے گناہ کتوں سمیت دیگر جانوروں پر ظلم کرنے والوں کا انجام بھی یزید کے ساتھ کرنا۔ آمین
اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین سومرو نے بے گھر کتوں کو زہر دینے، گولی مارنے یا تلف کرنے پر مستقل پابندی عائد کرتے ہوئے سٹریٹ ڈاگ کی آبادی پر قابو پانے کے لیے ٹریپ، اسٹریلائز اور ویکسین اپنانے کی ہدایت کی۔
معزز جج نے جانوروں پر ظلم کی رجسٹری قائم کرنے کا بھی حکم دیا۔
معزز جج کا کہنا تھا کہ جانوروں پرظلم کی روک تھام کا ایکٹ 1890 پرانا ہو چکا ہے، جانوروں پرظلم کی روک تھام کے ایکٹ میں اصلاحات اور سخت سزاؤں کی ضرورت ہے۔
معزز جج کا کہنا تھا کہ کتے جاندار اور حساس مخلوق ہیں، ان سے بے رحمانہ سلوک نہیں کیا جاسکتا، آئین میں جانوروں کے حقوق، ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تحفظ بھی شامل ہے۔
سپریم کورٹ، پنجاب اور دیگر صوبوں کی عدلیہ سے بھی گزارش ہے کہ قیامت کے روز حقیقی منصف کی عدالت میں سرخرو ہونا چاہتے ہو تو معصوم اور بے گناہ کتوں کی قتل و غارت اور ان پر مظالم کی فوری روک تھام کیلئے سخت احکامات صادر کیے جائیں اگر ایسا کرنے میں تاخیر ہوئی تو اس تاخیر کے نتیجے میں ظلم سہنے اور ناحق قتل ہونے والے کتے روز قیامت قاتل ضلعی انتظامیہ کے ساتھ آپ کو بھی اللہ کے سامنے کھڑا کریں گے۔ تمام پاکستانیوں نے بھی فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے ظالم کا ساتھ دینا ہے یا ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر سیدھے راستے کا انتخاب کرنا ہے۔محبت شفقت اور رحمدلی اللہ کے رسول اور امام حسین کا بتایا ہوا صراط مستقیم ہے جبکہ ظلم و بربریت اور سفاکیت یزیدیوں اور لعنتیوں کا راستہ ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.