تحقیق ترقی کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تحقیق اور ترقی (R&D) ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ آج وہی ممالک حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ کہلاتے ہیں جنہوں نے اپنی ریاستی اور سماجی ادارہ سازی کو مضبوط بنانے کےلئے تحقیق کو ترجیح دی۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تحقیق کبھی قومی ترجیح رہی ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 0.16 فیصد سے بھی کم حصہ تحقیق پر خرچ کیا جاتا ہے۔
اگرچہ ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور تحقیق کو مضبوط بنانے کےلئے مختلف اقدامات تو کئے گئے ہیں لیکن جامعات، صنعتوں اور تحقیقی اداروں کے درمیان ایسا موثر تعلق قائم نہیں کیا جا سکا جو جدت پر مبنی معاشی ترقی کو آگے بڑھا سکتا یہی وجہ ہے کہ تحقیق کا رخ بھی قومی اور صنعتی ضروریات کے مطابق نہ بن سکا۔ نتیجتاً تحقیق کو تجارتی بنیادوں پر استعمال کرنے اور صنعتی مسابقت بڑھانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ تعلیمی اداروں، صنعتوں اور پالیسی سازی کے مراکز کے درمیان رابطے آج بھی محدود ہیں۔
میں نے 1985 سے 1991 کے اوائل تک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس (NIE) میں ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز اینڈ کوآرڈی نیشن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ ادارہ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت کام کرتا تھا اور دیگر تحقیقی ادارے بھی اسی وزارت کے ماتحت تھے۔ میری تقرری اوپن میرٹ پر ہوئی تھی۔ تحقیقی عملہ ڈائریکٹر جنرل کی نگرانی میں کام کرتا تھا۔ ا ±س زمانے میں ہم صنعت اور دفاع سے متعلق چند اہم منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔
ایک مرتبہ چین سے ماہرینِ ٹیکنالوجی پر مشتمل ایک وفد NIE آیا۔ انہوں نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کو اپنی رپورٹ میں زور دیا کہ ادارے میں تحقیق کو صنعت سے جوڑا جائے، جامعات اور صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھایا جائے اور تحقیق کو تجارتی بنیادوں پر فروغ دیا جائے تاکہ صنعت کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ افسوس کہ وہ منصوبے جنہیں تجارتی شکل دی جا سکتی تھی1991 میں میری ریٹائرمنٹ تک بھی مکمل نہ ہو سکے۔ آج NIE میں تحقیق کی کیا صورتحال ہے میں اس بارے میں میں کوئی رائے نہیں دے سکتا کیونکہ میرے پاس اس کی تازہ معلومات موجود نہیں۔
1991 میں مجھے ایک بار پھر اوپن مقابلے کے ذریعے وزیرِاعظم کی کمیٹی برائے تحقیق و تجزیہ (PMCRA) میں ریسرچ پروگرامز کوآرڈی نیٹر منتخب کیا گیا۔ اس کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی تھے جو ایک نہایت قابل محقق ہیں اور اس وقت گیلپ پاکستان کے چیئرمین ہیں۔ اس کمیٹی کا مقصد وزیراعظم سیکریٹریٹ میں تکنیکی بنیادوں پر تحقیق کے ذریعے حکومتی اداروں میں بہتر کارکردگی اور جوابدہی کو فروغ دینا تھا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ PMCRA بھارتی خفیہ ادارے RAW جیسا کوئی ادارہ نہیں تھا بلکہ اس کا کام بنیادی اور ثانوی تحقیق کے ذریعے رپورٹس تیار کر کے وزیراعظم کو پیش کرنا تھا۔ ڈاکٹر گیلانی اکثر وزیراعظم کو ذاتی طور پر بریفنگ بھی دیتے تھے۔
1992 میں PMCRA نے”ٹیکنالوجی ٹرائی اینگل“ کے عنوان سے ایک منصوبہ تیار کیا۔ اس منصوبے کا مقصد جامعات، صنعتوں، تحقیقی اداروں اور پالیسی سازوں کے درمیان موجود کمزوریوں اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا اور ان روابط کو مضبوط بنانے کےلئے عملی تجاویز پیش کرنا تھا۔
وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی، وزارتِ تعلیم، وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی وسائل اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (جو بعد میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کہلایا) اس منصوبے کے رابطہ کار ادارے تھے۔ اسی سال اس وقت کے وفاقی وزیرِ تعلیم نے معروف امریکی ادارے Massachusetts Institute of Technology (MIT) سے دو رکنی ماہرین کی ٹیم پاکستان مدعو کی۔ اس ٹیم نے متعلقہ اداروں سے تفصیلی مشاورت کی۔
PMCRA نے MIT ٹیم سے درخواست کی کہ وہ:
٭ پاکستان میں انجینئرنگ تعلیم کا جائزہ لے کہ آیا وہ صنعتی ترقی کی ضروریات پوری کر رہی ہے یا نہیں؟
٭ اعلیٰ تعلیم، ٹیکنالوجی، صنعت اور حکومت کے مقاصد میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے طریقہ کار تجویز کرے
٭ حکومت، جامعات، تحقیقی اداروں اور صنعتوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے کےلئے عملی سفارشات دے
٭ تحقیقی اداروں کو قومی مقاصد کے مطابق فعال بنانے کے لئے اصلاحات تجویز کرے؛
نیز یہ بھی جائزہ لے کہ آیا حکومتی نگرانی کے ساتھ یا بغیرتحقیقی اداروں کی نجکاری مسائل کا مناسب حل ثابت ہو سکتی ہے یا نہیں؟
بعد ازاں ستمبر اور اکتوبر 1992 میںکنٹریکٹ ریسرچ کے شعبے میں مہارت رکھنے والی MIT کی ایک دوسری ٹیم دو ہفتوں کےلئے پاکستان آئی۔ اس ٹیم نے جامعات، تحقیقی اداروں اور نجی صنعتی یونٹس کا دورہ کیا اور مختلف سطحوں پر تبادلہ خیال کیا۔ PMCRA نے بھی انہیں اپنی تجاویز اور معلومات فراہم کیں۔
تاہم جب MIT ٹیم امریکہ واپس جا کر اپنی حتمی رپورٹ تیار کر رہی تھی تو اسی دوران نئی حکومت نے بیوروکریسی کی سفارش پر PMCRA کو تحلیل کر دیا۔ یوں MIT کی حتمی رپورٹ تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔
گزشتہ کئی برسوں میں جامعات، صنعتوں، تحقیقی اداروں اور پالیسی ساز اداروں کے درمیان روابط بہتر بنانے کی چند کوششیں ضرور کی گئیں مگر وہ مو ¿ثر ثابت نہ ہو سکیں۔ ان اداروں کے درمیان عملی تعاون اب بھی نہایت محدود ہے۔ تحقیق سے حاصل ہونے والے علم کی منتقلی اور اس کے تجارتی استعمال کی رفتار بھی بہت سست ہے۔ جامعات میں ہونے والی تحقیق اور صنعت کی حقیقی ضروریات میں بہت کم مطابقت پائی جاتی ہے۔ صنعتیں تعلیمی تحقیق پر سرمایہ لگانے کےلئے تیار نہیں ہوتیں۔
ماہر اور تعلیم یافتہ افراد بہتر مواقع اور محفوظ مستقبل کی تلاش میں بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت شدید”برین ڈرین“ یعنی ذہانت کی بیرون ملک منتقلی کا شکار ہے۔ گزشتہ ڈھائی دہائیوں میں لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان اور باصلاحیت پیشہ ور افراد ملک چھوڑ چکے ہیں۔ ہم آج بھی اپنی ٹیکنالوجی خود تیار کرنے کے بجائے بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہے ہیں حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی سطح پر نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری کےلئے وسائل مختص کئے جائیں۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کےلئے پاکستان کو سب سے پہلے ایک جامع اور طویل المدتی منصوبہ بندی کرنا ہوگی تاکہ جامعات، صنعتوں، تحقیقی اداروں اور پالیسی ساز اداروں کے درمیان مضبوط روابط قائم کئے جا سکیں۔ تحقیق و ترقی کےلئے بجٹ کو بڑھا کر کم از کم GDP کے دو فیصد تک لانا چاہئے۔ جامعات اور صنعتوں کو مشترکہ منصوبوں پر کام کرنا ہوگا۔ انجینئرنگ کے طلبہ کے لئے ایک سالہ صنعتی انٹرن شپ کو لازمی قرار دیا جانا چاہئے تاکہ انہیں عملی تجربہ حاصل ہو۔
صنعتوں کو چاہئے کہ وہ جامعات کے فارغ التحصیل نوجوانوں کو تحقیقی اور تجارتی منصوبوں پر کام کرنے کے مواقع فراہم کریں۔ نمایاں طلبہ کو اعلیٰ تربیت کے لئے بیرونِ ملک بھیجا جائے۔ جامعات، صنعتوں، تحقیقی اداروں اور سرکاری اداروں پر مشتمل مشترکہ کونسلیں قائم کی جائیں جو باقاعدگی سے اجلاس منعقد کریں، پیش رفت کا جائزہ لیں اور مستقبل کے پروگراموں کا تعین کریں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری حکمران اشرافیہ کو ملک میں ضرورت پر مبنی تحقیقی کلچر کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ تحقیق ہی ترقی، خود انحصاری اور قومی استحکام
کی اصل بنیاد ہے۔
(مضمون نگار پائیدار ترقیاتی پالیسی انسٹی ٹیوٹ، اسلام آباد میں ممتاز مشیرِ ایمیریٹس ہیں۔ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات ان کے ذاتی ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارے کی پالیسی کی نمائندگی کرتے ہوں۔)