قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کابل حکومت بھارت کی پراکسی بنی ہوئی ہے اور کابل پاکستان کو دہشت گردی روکنے کی یقینی دہانی نہیں کرا رہا۔
انہوں نے کہا کہ دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں، چاہے مشرقی سرحد ہو یا مغربی، اس وقت دونوں سرحدوں پر ایک ہی دشمن موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 3 ملکوں کے ساتھ مل کر انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی، جبکہ قطر، سعودی عرب اور ترکیہ نے بھی مذاکرات میں پاکستان کا ساتھ دیا۔
نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروباری مواقع دینے کیلئے پرعزم ہے: وزیراعظم
وزیر دفاع نے کہا کہ پاک فوج غیر مشروط شہادتیں دے رہی ہے، اگر کوئی بچہ سرحد پر جا کر اپنی جان دیتا ہے تو اس کی شناخت پاکستان ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک طویل عرصے تک خیبرپختونخوا حکومت کا تعاون نہیں تھا، تاہم اب تعاون حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کی تقریب میں سب کو مدعو کیا گیا تھا لیکن کوئی شریک نہیں ہوا، تاہم انہوں نے ان افراد کے نام لینے سے گریز کیا جنہیں دعوت دی گئی تھی۔