نئے ٹریفک بل میں مختلف ٹریفک خلاف ورزیوں کی سزاؤں میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔
پرانے آرڈیننس کے تحت لائسنسنگ سے متعلق جرم پر 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا مقرر تھی، تاہم نئے بل میں جرمانہ کم کر کے 5 ہزار سے 10 ہزار روپے کر دیا گیا ہے جبکہ قید کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔
حکومت اور اپوزیشن میں رابطے، وزیراعظم کی محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کی دعوت
ون وے کی خلاف ورزی پر پہلے 50 ہزار روپے جرمانہ یا 6 ماہ قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی تھیں، مگر نئی قانون سازی میں صرف 5 ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے اور قید کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔
لائسنس کی خلاف ورزی پر بھی پہلے 50 ہزار روپے جرمانے کی تجویز تھی، جبکہ نئے بل میں اسے کم کر کے صرف 5 ہزار روپے کر دیا گیا ہے اور قید کی سزا ختم کر دی گئی ہے۔
غلط سمت میں گاڑی چلانے پر پہلے چھ ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانے کی دفعات تھیں، لیکن نئے بل میں صرف 5 ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے۔
عمر کی حد کی خلاف ورزی کی صورت میں پہلے چھ ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا تھی، اب نئے بل میں صرف 10 ہزار روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس صورت میں گاڑی ضبط کر کے کسی ایسے مالک یا مجاز شخص کے حوالے کی جائے گی جس کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس موجود ہو۔
بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر پرانے آرڈیننس میں چھ ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دوبارہ خلاف ورزی پر دو سال قید یا ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا تھی، لیکن نئے بل میں صرف 5 ہزار روپے جرمانہ رکھا گیا ہے۔ ایسی گاڑی کو صرف انسپکشن اسٹیشن تک لے جانے کی اجازت ہوگی۔
پبلک سروس گاڑی میں حد سے زائد مسافر بٹھانے پر پہلے چھ ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا تھی، اب صرف 5 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ یہ سزا خاص طور پر گاڑی کی چھت پر سفر کرنے والے یا اطراف سے لٹکنے والے مسافروں پر لاگو ہوگی۔