نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عرافچی سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال، جاری کشیدگی اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے گزشتہ رات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تفصیلی بات چیت کی، جس میں علاقائی حالات، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امن و استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں پر گفتگو کی گئی۔
اختلاف کے باوجود امریکا نیٹو اتحاد میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے: جرمن چانسلر
ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے مثبت کردار اور مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔
گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسائل کا دیرپا حل صرف بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایک ایرانی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا جاتا ہے اور بطور ثالث پاکستان کی حیثیت میں کسی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔