دورانِ سماعت وکیل بانی پی ٹی آئی فتح اللہ برقی نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ابھی تک چالان فراہم نہیں کیا گیا، جس پر جج عبد الغفور کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ کیس کا چالان عدالت میں جمع ہو چکا ہے۔
پراسیکیوٹر واثق ملک نے عدالت کو بتایا کہ چالان جمع کرا دیا گیا ہے اور اس کی سکروٹنی رجسٹرار کے ذریعے جاری ہے۔
وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ رجسٹرار ابھی تک چالان کی سکروٹنی کر رہے ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے معلومات کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے بھی دریافت کیا ہے۔
جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی گولہ باری، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی
اس پر پراسیکیوٹر واثق ملک نے کہا کہ انہیں یہ معلوم نہیں کہ خصوصی عدالتوں میں چالان کی سکروٹنی رجسٹرار کرتا ہے یا نہیں، اور اگر یہ بات چیٹ جی پی ٹی کے حوالے سے کہی جا رہی ہے تو اس پر وہ کیا جواب دیں۔
وکیل بانی پی ٹی آئی نے سوال اٹھایا کہ انہیں بتایا جائے کہ کس قانون کے تحت رجسٹرار چالان کی سکروٹنی کر سکتا ہے، اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے بھی چیٹ جی پی ٹی سے رجسٹرار کی سکروٹنی کے بارے میں پوچھا ہے لیکن انہیں واضح جواب نہیں ملا، لہٰذا پراسیکیوٹر اس حوالے سے وضاحت کریں۔
پراسیکیوٹر واثق ملک نے کہا کہ وہ عدالت میں اس بات کی وضاحت کے لیے موجود نہیں ہیں، جس کے بعد وہ کمرہ عدالت سے چلے گئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ فارن فنڈنگ کیس کے چالان کی سکروٹنی کا عمل جاری ہے جبکہ چالان ابھی تک باقاعدہ طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 مئی تک ملتوی کر دی۔