اقوامِ متحدہ سے وابستہ اداروں ادارہ خوراک و زراعت (FAO) اور عالمی خوراک پروگرام (WFP) نے لبنان کی وزارتِ زراعت کے اشتراک سے جاری تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ لبنان میں غذائی عدم تحفظ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور صورتحال تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔
نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد: صوبوں کو پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت
رپورٹ کے مطابق تقریباً 7 لاکھ 25 ہزار افراد، یعنی لگ بھگ 19 فیصد آبادی، شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہی ہے، جہاں لوگوں کے لیے روزمرہ خوراک کا حصول مشکل بنتا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پناہ گزین برادری سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ ملک میں موجود تقریباً 3 لاکھ 62 ہزار شامی پناہ گزینوں میں سے 36 فیصد جبکہ ایک لاکھ 4 ہزار فلسطینی پناہ گزینوں میں 45 فیصد افراد شدید غذائی بحران کا شکار ہیں۔
اسی طرح 2024 کے بعد شام سے آنے والے نئے مہاجرین کو سب سے زیادہ خطرے میں قرار دیا گیا ہے، جہاں تقریباً 50 ہزار افراد میں سے 52 فیصد کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاندان مجبوری کے تحت کھانے کی مقدار کم کر رہے ہیں، بعض اوقات کھانے چھوڑ دیتے ہیں، قرض لیتے ہیں اور اپنی قیمتی اشیاء فروخت کر کے گزارہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر انسانی امداد اور معاشی استحکام کے اقدامات نہ کیے گئے تو بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے اور ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔
