وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر **رانا ثنا اللہ** نے کہا ہے کہ وزیراعظم **شہباز شریف** نے قیادت اور متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لے کر **پی ٹی آئی** کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔
جیو پاکستان کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان سے ملاقات کا طریقہ کار طے کیا تھا، جس میں ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمیوں سے گریز کرنے کی ہدایت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت کے طے کردہ طریقہ کار کی پابندی کی جائے تو ملاقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
لیجنڈ گلوکار مہدی حسن مرحوم کے صاحبزادے سجاد مہدی انتقال کرگئے
رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی جو پیشکش کی ہے، وہ اعلیٰ قیادت اور متعلقہ حلقوں سے مکمل طور پر مربوط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ وہ تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں، اس لیے حکومت مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو 5 فروری کے بعد اپنا موقف دوبارہ دیکھنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ عمران خان ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی سے نقصان میں رہیں گے اور انہیں مذاکرات کے ذریعے ہی مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔