Gas Leakage Web ad 1

مچھر، مکھیوں، لال بیگ اور چیونٹیوں سمیت کیڑوں کو گھر سے دور رکھنے والے 5 عام پودے

0

اگر آپ گھر کو مچھروں، مکھیوں، لال بیگ اور دیگر کیڑوں سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو اس مقصد کے لیے چند عام پودے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

Gas Leakage Web ad 2

درحقیقت اگر آپ گھر میں چیونٹیوں کی قطاروں یا مکھیوں کی بہتات سے پریشان ہو کر کیمیکلز استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ کام پودوں کے ذریعے بھی ممکن ہے، جس سے نہ صرف کیڑوں سے نجات ملتی ہے بلکہ گھر کے اندر ہوا کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری دے دی گئی

کچھ پودے ایسے ہوتے ہیں جن کی قدرتی خوشبو کیڑوں کو دور رکھنے میں مدد دیتی ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں مناسب جگہوں پر رکھا جائے۔

جڑی بوٹیوں میں روزمیری، تلسی اور پودینہ شامل ہیں، جن سے خارج ہونے والی خوشبو مکھیوں اور مچھروں کو قریب آنے سے روکتی ہے۔ ان پودوں کو کھڑکیوں کے قریب رکھنے سے کیڑوں کی آمد کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تلسی مکھیوں اور مچھروں کو دور رکھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ پودینہ چیونٹیوں، مکھیوں، مچھروں حتیٰ کہ چوہوں کو بھی گھر سے دور رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح روزمیری مچھروں اور مکھیوں کے خلاف مؤثر ہے اور لیمن گراس بھی مچھروں کو بھگانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

گیندا ایک ایسا پودا ہے جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی مہک کے باعث مختلف کیڑوں کو گھر سے دور رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔

لیونڈر کی خوشبو جہاں سکون کا احساس پیدا کرتی ہے اور بہتر نیند میں مدد دیتی ہے، وہیں بھنوروں اور دیگر کیڑوں کو یہ خوشبو پسند نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے وہ اس سے دور رہتے ہیں۔

سنبل بری ایسا پودا ہے جس کی مہک لال بیگ اور مچھروں کو ناگوار گزرتی ہے، اس لیے یہ کیڑے اس پودے کے قریب نہیں آتے۔ اس پودے میں موجود ایک مرکب کیڑوں کے جسم میں ایسے کیمیائی ریسیپٹرز کو متحرک کرتا ہے جو ان کے لیے خارش اور تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

گل داؤدی کو کیڑوں کا سخت دشمن سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسے گھر میں رکھنے سے لال بیگ، چیونٹیاں، کھٹمل، دیمک اور دیگر کئی اقسام کے کیڑوں کو دور رکھا جا سکتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.