Gas Leakage Web ad 1

80 سال سے زائد عرصے سے گم آبدوز کو غوطہ خوروں نے دریافت کرلیا

0

برطانیہ میں غوطہ خوروں نے کئی دہائیاں قبل سمندر میں ڈوبنے والی ایک آبدوز کا ملبہ دریافت کرلیا۔

Gas Leakage Web ad 2

برطانوی علاقے ڈیون کے ساحل سے 20 میل دور غوطہ خوروں نے انگلش چینل میں دوسری جنگ عظیم کے دور کی ایک جرمن آبدوز کا ملبہ دریافت کیا۔

آئن ٹیلر اینڈ اسکن ڈیپر ٹیم نے کچھ عرصہ قبل سمندر میں یہ ملبہ دریافت کیا تھا، تاہم اس وقت یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ یہ آبدوز کا ملبہ ہے یا پہلی جنگ عظیم کے دور کا کوئی جنگی بحری جہاز۔
میچ کے وقفے میں عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر، پی سی بی کا احتجاج
ایک اندازے کے مطابق یہ آبدوز 82 سال قبل سمندر میں ڈوبی تھی اور کئی دہائیوں بعد اب اس کا ملبہ دریافت ہوا ہے۔

55 سالہ ڈوم روبنسن اور ان کی ٹیم نے دوبارہ وہاں جاکر ملبے کی شناخت کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاریخ دان ایلس نیسلے سے مشاورت کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ یہ ملبہ یو 672 نامی آبدوز کا ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے دوران استعمال ہوتی تھی اور 1944 میں لاپتا ہوگئی تھی۔

یہ آبدوز 1944 میں گم ہوئی تھی۔

ڈوم روبنسن نے بتایا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس طرح کی آبدوزیں جنگی بحری جہازوں کو ڈبونے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس نوعیت کی آبدوز میں 52 افراد پر مشتمل عملہ موجود ہوتا تھا۔

ڈوم روبنسن کے مطابق انہیں توقع نہیں تھی کہ یہ ملبہ وہاں سے مل جائے گا اور اسے دریافت کرنے کی یہ ان کی ٹیم کی دوسری کوشش تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے بہت بڑا لمحہ تھا اور وہ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ دوسری جنگ عظیم کے دور میں یہ منظر کتنا خوفناک ہوتا ہوگا۔

ڈوم روبنسن کی ٹیم سمندر میں گم ہونے والے جہازوں کو تلاش کرنے کا کام کرتی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.