پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ عمر گل نے واضح کیا ہے کہ اُن کے اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں حقیقت پر مبنی نہیں۔
قومی ٹیسٹ ٹیم کے بولنگ کوچ عمر گل نے سلہٹ میں بنگلادیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے روز کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ صبح اٹھے اور سوشل میڈیا دیکھا تو وہاں اُن کے اور شاہین آفریدی کے حوالے سے مختلف باتیں زیر گردش تھیں کہ شاہین کوچ کی بات نہیں مان رہے۔
امریکا نے روسی تیل تک رسائی کیلئے 30 دن کا جنرل لائسنس جاری کردیا
عمر گل نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی صورتحال نہیں تھی۔ اُن کے مطابق حسن علی گر گئے تھے اور اُن کے سر پر چوٹ لگی تھی، جبکہ شاہین باہر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے شاہین سے صرف یہ کہا تھا کہ حسن کے سر پر گیند لگی ہے اور کن کشن کا وقت کم ہوتا ہے، اس لیے آپ میدان میں چلے جائیں۔
بولنگ کوچ نے کہا کہ ویڈیو یا صورتحال کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے شاہین یہ کہہ رہے ہوں کہ کسی کا دماغ ٹھیک نہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ اُنہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اُن کے اور شاہین آفریدی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ عمر گل نے میچ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیم کے پاس ابھی دو دن موجود ہیں اور امکان ہے کہ بارش بھی ہو سکتی ہے، اس لیے میچ میں ابھی کافی وقت باقی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی ٹیم دو دن اچھی بیٹنگ کرے تو میچ جیتنے کا موقع موجود ہے، جبکہ اتنا کم وقت بھی نہیں کہ میچ لازمی ڈرا ہو جائے۔ اُن کے مطابق دونوں ٹیموں کے پاس فتح حاصل کرنے کا موقع ہے۔
عمر گل نے کہا کہ 437 رنز کا ہدف حاصل کرنے کے لیے دو سے تین اچھی شراکت داریاں قائم کرنا ضروری ہوں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹیم ذہنی طور پر ہدف کے تعاقب کے لیے تیار ہے اور بھرپور کوشش کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ میں ہر چیز ممکن ہوتی ہے۔ پہلے روز پچ بولرز کے لیے سازگار تھی کیونکہ نمی موجود تھی اور سوئنگ بھی مل رہی تھی، تاہم دوسرے اور تیسرے روز بیٹرز کو کافی مدد ملی اور پچ بیٹنگ کے لیے بہترین ثابت ہوئی۔ اُن کے مطابق بنگلادیشی بیٹرز نے بہت اچھی بیٹنگ کی جبکہ پاکستانی بولرز بدقسمت رہے۔
عمر گل نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان ٹیم زیادہ ٹیسٹ میچز نہیں کھیلتی، جس کی وجہ سے بولرز کا ردھم برقرار نہیں رہتا۔ اُنہوں نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں فاسٹ بولرز نے 40 سے زائد اوورز کیے، بولرز میں انرجی موجود ہے لیکن اصل مشکل تب پیش آتی ہے جب ٹیم طویل عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم تقریباً چھ ماہ بعد ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہی ہے۔