جینیاتی بیماری ’’مینڈیبیولو ایکرل ڈسپلیزیا‘‘
دنیا بھر میں ایسی کئی بیماریاں موجود ہیں جن کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں اور ان بیماریوں کے مریضوں کی تعداد بھی نہایت کم ہے۔ مختلف ڈاکٹرز ان بیماریوں پر تحقیق کر کے عوام کو ان سے متعلق آگاہی فراہم کر رہے ہیں۔ انہی بیماریوں میں ایک جینیاتی بیماری ’’مینڈیبیولو ایکرل ڈسپلیزیا‘‘ بھی شامل ہے۔
یہ بیماری Lamin A نامی جین میں خرابی کے باعث لاحق ہوتی ہے اور کم عمری میں ہی بچوں کو بوڑھا دکھانے لگتی ہے۔ یہ بیماری کیا ہے، کیوں اور کیسے ہوتی ہے، ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے امریکا میں مقیم اور اس بیماری پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر ارشد پڑھیار سے گفتگو کی گئی۔ انہوں نے اس حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔
نمائندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشد پڑھیار نے بتایا کہ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر میں حاصل کی، بعدازاں چوتھی جماعت سے کراچی کے ایک نجی اسکول میں داخلہ لیا اور وہیں سے میٹرک مکمل کیا۔ پھر دہلی کالج سے پری میڈیکل میں انٹر کیا۔ ان کے مطابق میڈیکل کے شعبے میں آنے کا شوق بچپن سے تھا کیونکہ ان کے والد اور خاندان کے دیگر افراد کا تعلق بھی میڈیکل کے شعبے سے تھا۔
انہوں نے بتایا کہ انٹرمیڈیٹ کے دوران جینیات کے مضمون نے ان کی دلچسپی بڑھائی، جس کے بعد انہوں نے اسی شعبے میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ کراچی یونیورسٹی سے مائیکرو بایولوجی میں گریجویشن کیا اور بعد میں جینیات میں ماسٹرز کیا۔ اس کے بعد ایک نجی یونیورسٹی میں پیڈیاٹرکس ڈیپارٹمنٹ میں بطور ریسرچ آفیسر خدمات انجام دیں اور پھر اسکالرشپ پر چین جا کر پی ایچ ڈی کی۔
ڈاکٹر ارشد پڑھیار کے مطابق مینڈیبیولو ایکرل ڈسپلیزیا ایک نہایت نایاب جینیاتی بیماری ہے، جو دنیا بھر میں بہت کم افراد کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی جسم کا جینیاتی نظام ڈی این اے پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں اربوں ہدایات محفوظ ہوتی ہیں۔ اس بیماری میں Lamin A نامی جین میں میوٹیشن آ جاتی ہے، جس کی وجہ سے جسم کے خلیات درست طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً بچے کم عمری میں ہی بوڑھے دکھائی دینے لگتے ہیں، ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں، جسم میں چربی کم ہو جاتی ہے، دانت غیر معمولی انداز میں نکلتے ہیں اور دل کی بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس بیماری کا اثر دماغ پر نسبتاً کم ہوتا ہے کیونکہ دماغ میں Lamin A جین عموماً غیر فعال ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے خلیات اپنا کام بہتر انداز میں کرتے رہتے ہیں۔ تاہم جسم کے دیگر حصوں میں بڑھاپے جیسے اثرات نمایاں ہونے کے باعث ان مریضوں کی زندگی عموماً چند سال تک محدود رہتی ہے۔
اپنی تحقیق کے حوالے سے ڈاکٹر ارشد پڑھیار نے بتایا کہ یہ تحقیق اس وقت شروع ہوئی جب کچھ مریض ایسی علامات کے ساتھ اسپتال آئے جو عموماً بڑھتی عمر سے متعلق بیماریوں میں دیکھی جاتی ہیں۔ جینیاتی جانچ اور سیکوینسنگ کے دوران Lamin A جین میں میوٹیشن کی نشاندہی ہوئی۔ چونکہ اس مخصوص میوٹیشن کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں تھا، اس لیے اسپتال نے ان کے تجدیدی طب کے شعبے سے رابطہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس تحقیق کی قیادت کرتے ہوئے مریضوں سے خون کے خلیات حاصل کیے اور induced pluripotent stem cell ٹیکنالوجی کے ذریعے ان خلیات کو دوبارہ پروگرام کر کے مختلف اقسام کے سیلز میں تبدیل کیا تاکہ بیماری کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ CRISPR gene editing ٹیکنالوجی کے ذریعے اسی میوٹیشن کے ماڈلز بھی تیار کیے گئے اور اسے درست کرنے کی کوشش کی گئی۔
تحقیق کے دوران مختلف سیلولر ماڈلز اور حیاتیاتی عملوں کا مطالعہ کیا گیا، جن میں fibroblasts، mesenchymal stem cells، اعصابی خلیات، osteogenesis، adipogenesis، epigenetic تبدیلیاں اور immune pathways شامل تھے۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ مائٹوکانڈریا اور مخصوص امیون پاتھ وے کی خرابی کے باعث ان بچوں کا مدافعتی نظام غیر معمولی تیزی سے بوڑھا ہو جاتا ہے، جس کے اثرات پورے جسم پر ظاہر ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر ارشد پڑھیار کے مطابق پاکستان میں اس بیماری کے 7 سے 8 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ امریکا میں 40 سے 50 کیسز موجود ہیں۔ تقریباً ایک کروڑ پیدائشوں میں سے ایک بچہ اس بیماری کا شکار ہوتا ہے، جبکہ دنیا بھر میں اس مرض میں مبتلا بچوں کی تعداد تین سے چار سو کے درمیان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چونکہ اس بیماری کے لیے باقاعدہ منظور شدہ علاج موجود نہیں، اس لیے drug repurposing کا طریقہ اپنایا گیا، یعنی ایسی ادویات استعمال کی گئیں جو پہلے سے دوسری بیماریوں کے علاج کے لیے منظور شدہ تھیں۔ ان کے مطابق اس دوا کے استعمال کے بعد مریض بچوں کے انتہائی متحرک مدافعتی نظام میں بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم اب یہ جانچنا باقی ہے کہ دوا کی کتنی مقدار survival rate میں اضافہ اور علامات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فی الحال مختلف اسپتالوں میں یہ دوا استعمال کی جا رہی ہے اور ہر بچے کی حالت کے مطابق دوا کی مقدار اور دورانیہ طے کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل صرف palliative treatment کیا جاتا تھا، جس سے وقتی آرام تو ملتا تھا لیکن بیماری کے بنیادی مسئلے پر قابو نہیں پایا جا سکتا تھا۔
پاکستان اور امریکا کے نظامِ علاج کے فرق پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشد پڑھیار نے کہا کہ پاکستان میں عام بیماریوں اور ہنگامی کیسز کا علاج نسبتاً تیزی سے ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں کاغذی کارروائی اور انشورنس کا نظام کم پیچیدہ ہے، جبکہ امریکا میں اپائنٹمنٹ اور علاج کے عمل میں دستاویزی تقاضوں کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے۔ تاہم پیچیدہ بیماریوں جیسے کینسر اور جینیاتی امراض کے علاج میں امریکا زیادہ جدید اور تحقیق پر مبنی سہولیات فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے اپنی ایک اور تحقیق fibrosis اور immune related diseases کے حوالے سے بتایا کہ fibrosis ایسی بیماری ہے جس میں جسم کے ٹشوز میں زیادہ scar tissue بن جاتا ہے اور یہ عمل عموماً ناقابلِ واپسی ہوتا ہے۔ ان کی تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ fibrosis کو کس طرح reverse کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ Three-Spined Stickleback مچھلی پر تحقیق کر رہے ہیں، جس کی کچھ آبادیوں میں fibrosis قدرتی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں بایوٹیکنالوجی اور regenerative medicine کے مستقبل کے حوالے سے ڈاکٹر ارشد پڑھیار نے کہا کہ ملک میں تحقیق کے لیے مضبوط فنڈنگ، R&D پر مبنی صنعتوں اور biotech startups کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ تعلیمی تحقیق کو عملی سطح پر منتقل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق پاکستان میں جدید طریقہ علاج کو اپنانے میں فنڈنگ کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام کی کمزوری بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بنیادی تعلیم سے ہی تجسس اور سائنسی سوچ کو فروغ دیا جائے تو مستقبل میں معیاری تحقیق اور نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا ممکن ہو سکے گا۔ اسٹیم سیل کے شعبے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور اسٹیم سیل تھراپی کے ذریعے مستقبل میں کینسر، مدافعتی بیماریوں اور الزائمر و پارکنسن جیسی اعصابی بیماریوں کے علاج میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر رجسٹرڈ کلینکس غیر مجاز اسٹیم سیل تھراپیز فراہم کر سکتے ہیں، اس لیے عوام کو چاہیے کہ صرف منظور شدہ علاج ہی اختیار کریں۔ ان کے مطابق اگر آگاہی، جدید تحقیق اور مناسب فنڈنگ پر توجہ دی جائے تو پاکستان regenerative medicine اور biotechnology کے میدان میں نمایاں ترقی حاصل کر سکتا ہے۔