وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت لائیوسٹاک کے شعبے میں اصلاحات، لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو اور منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے اقدامات کا جائزہ لینے کے حوالے سے اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بورڈ میں نجی شعبے کے قابل اور تجربہ کار ماہرین کو شامل کرکے اسے مؤثر اور فعال ادارہ بنایا جائے۔ انہوں نے منہ کھر کی بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے واضح اہداف، قابلِ پیمائش نتائج اور مقررہ مدت پر مشتمل جامع ایکشن پلان پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔
طالبان کو پناہ دینے کے کیس میں 14 سال سزا کیخلاف اپیل، سپریم کورٹ کا اٹارنی جنرل کو نوٹس
شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے وسائل سے مویشیوں کے لیے جدید اور مؤثر ویکسین کی تیاری کا پلانٹ اسلام آباد میں قائم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لائیوسٹاک اور ڈیری کے شعبے کی ترقی کے لیے عالمی معیار کے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں اور متعلقہ ممالک کے تجربات سے استفادہ کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لائیوسٹاک کے شعبے میں وسیع استعداد موجود ہے، جسے برآمدات میں اضافے اور معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ انہوں نے اس شعبے میں مہارت رکھنے والے ممالک کے ساتھ شراکت داری کو بھی فروغ دینے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ جانوروں کی صحت، افزائشِ نسل، پیداوار اور ویلیو چین میں بہتری کے ذریعے پاکستان کی برآمدی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے، جس سے دیہی معیشت کو مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
اجلاس میں لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو، جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن، جانوروں کی شناخت اور ٹریس ایبلٹی، جبکہ گوشت اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک اور عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔



