جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کے علاوہ خیبرپختونخوا کے اسٹیٹ کونسل ارشد حسین یوسفزئی اور درخواست گزار کی وکیل مہناز ایڈووکیٹ کو بھی معاونت کی ہدایت کی۔

دورانِ سماعت جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے استفسار کیا کہ کیا کوئی طالبان درخواست گزار کے گھر سے پکڑا گیا تھا؟ اس پر خیبرپختونخوا حکومت کے اسٹیٹ کونسل نے بتایا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ موجود ہے۔
پمپ اونرز نے پیٹرول اور ڈیزل کی روزانہ قیمتوں کے تعین پر تحفظات کا اظہار کردیا
جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ سر آنکھوں پر، لیکن اسے ثابت بھی کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 سال سزا دی گئی، کیا کوئی طالبان اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا؟ جس پر مرضی الزام لگا دو، الزام یہ ہے کہ طالبان کو کھانا کھلایا۔
جسٹس عقیل احمد عباسی نے استفسار کیا کہ کیا کھانا کھلایا؟ اس پر جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیے کہ پتا نہیں کیا پکایا ہوگا جو کھلایا۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے مزید کہا کہ کیس میں ایک پارٹی ہو یا دوسری پارٹی، دونوں مظلوم ہیں۔ یہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل کا کیس ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اس کا دائرہ اختیار نہیں اور معاملہ واپس بھجوا دیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ کا مؤقف تھا کہ انصاف دینے کے چشمے اُدھر ہیں۔
اسٹیٹ کونسل ارشد یوسفزئی نے بتایا کہ یہ 2016ء کا فیصلہ ہے، جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ کا 2024ء کا فیصلہ بھی موجود ہے۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔



