وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنی تصاویر کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، کیونکہ ملزمان تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر میں عوامی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے اقدامات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
پی ایس ایل 12 : ڈائریکٹ سائننگ، پلیئر آکشن اور مارکی کھلاڑی کے حوالے سے اہم فیصلے
انہوں نے کہا کہ ماؤں اور بہنوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی تصاویر کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، کیونکہ ملزمان خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم کے شعبے میں بچیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق سب سے زیادہ شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچیوں اور عام شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مہم بھی شروع کی جا رہی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اگر کوئی شخص آن لائن پیسوں کا مطالبہ کرے تو ہرگز رقم منتقل نہ کریں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص خود کو بیمار ظاہر کرکے پیسے مانگے تو بھی اسے رقم منتقل کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں اور عام شہریوں کو سائبر کرائم سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے مہم شروع کی جا رہی ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں این سی سی آئی اے کے پاس 61 افراد تعینات ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سائلین کے مسائل حل کرنے کے لیے درکار نفری پوری کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ این سی سی آئی اے نے کئی اہم مقدمات میں ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور سائبر پولیس کو ہر لحاظ سے مضبوط بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے کوئی سرکاری ملازم ہو یا کوئی اور شخص، سائبر کرائم میں ملوث ہونے پر اسے گرفتار کیا جائے گا۔



