صوبائی دارالحکومت لاہور میں کنیئرڈ کالج کے 89ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ انہیں پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ دیگر خواتین بھی بااختیار بنیں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھیں۔

مریم نواز نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ طالبات کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور خودمختار بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کامیابی حاصل کرنے والی طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں موجود ہر لڑکی کی کامیابی کے پیچھے ایک داستان ہے اور آج ان طالبات کے والدین کے لیے انتہائی خوشی کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں والدین کا اپنی بیٹیوں پر اعتماد بڑھتا جا رہا ہے، جو خواتین کی ترقی اور خودمختاری کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ انہیں ہر روز خود کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ وہ مشکل سے مشکل کام بھی انجام دے سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور طالبات کو خودمختار بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، تاکہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے اور عملی زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی روزمرہ ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک بطور وزیراعلیٰ اپنی سرکاری ذمہ داریاں نبھاتی ہیں، جبکہ شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک گھر کی ذمہ داریاں شروع ہو جاتی ہیں۔
خواتین کے تحفظ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ تین سال کے دوران خواتین کے تحفظ کے لیے سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے پر کام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی، خواتین کے لیے گھروں سے باہر نکل کر کام کرنا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور طالبات کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، تاکہ خواتین مختلف شعبوں میں آگے بڑھ سکیں اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکیں۔
مریم نواز نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے باعث پنجاب آج خواتین کے لیے ایک محفوظ صوبہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق خواتین زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری سہولیات مہیا کی جائیں گی، تاکہ وہ عملی زندگی میں کامیابی حاصل کرسکیں۔
کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ آج وہ صوبے کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی حیثیت سے طالبات کے سامنے کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کارنامے انجام دے رہی ہیں اور وزیراعلیٰ، وزیر، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سمیت اہم انتظامی عہدوں پر بھی فائز ہو سکتی ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ وہ بھی یہ سنا کرتی تھیں کہ پنجاب کی بیوروکریسی کو چلانا ایک مشکل کام ہے، تاہم خواتین بھی انتظامی ذمہ داریاں نبھانے اور صوبے کے معاملات چلانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اہم انتظامی اور سرکاری عہدوں پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ وہ مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نمایاں مقام حاصل کر سکیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں اسموگ کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو ماضی میں اسموگ کے سنگین مسئلے کا سامنا رہا ہے، تاہم انہوں نے سوال کیا کہ کیا گزشتہ تین سال کے دوران اب کسی نے اسموگ کا نام سنا ہے؟ انہوں نے اس حوالے سے صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے اسموگ کے مسئلے پر بہت کام کیا ہے۔
مریم نواز نے کنیئرڈ کالج کی طالبات کے لیے پانچ بسیں اور لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس اقدام کا مقصد طالبات کو جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرنا اور ٹیکنالوجی تک ان کی رسائی بہتر بنانا ہے، تاکہ وہ اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا سکیں۔



