وزارت خزانہ نے پاکستان کے ذمے قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرضوں میں اضافے کی رفتار میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں حکومتی قرضوں کی شرح 75 فیصد سے کم ہو کر 68 فیصد رہ گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2023 میں قرضوں میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، تاہم مالی سال 2026 میں یہ شرح کم ہو کر 7.7 فیصد رہ گئی۔
بجلی چوری والے علاقوں میں ٹرانسفارمرز بندکرنےکیلئے ای پی ایم سسٹم نصب کیا جارہا ہے: وزیر توانائی
وزارت خزانہ نے بتایا کہ اگست 2026 میں مرکزی حکومت کے قرضوں میں 689 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرکاری شعبے کے بیرونی قرضوں کا تناسب 33 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد رہ گیا۔
اعلامیے کے مطابق قرضوں کی ادائیگی کے تخمینے میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے۔ مالی سال 2025 میں قرضوں کی ادائیگی کا تخمینہ 8.9 ٹریلین روپے تھا، جو مالی سال 2026 میں کم ہو کر 6.9 ٹریلین روپے رہ گیا۔ اسی طرح حکومتی آمدن کا وہ حصہ جو قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے، 64 فیصد سے کم ہو کر 38 فیصد رہ گیا۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025 سے اب تک تقریباً 5.9 ٹریلین روپے کے مہنگے قرضے قبل از وقت ادا کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملکی قرضوں کی اوسط مدت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ فوری ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 2.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر ستمبر 2026 میں 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔



