وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، پی ٹی آئی ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر مسائل کے حل کی طرف آئے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام کا آغاز 2014 میں ہوا تھا، جو آج تک جاری ہے۔ ان کے مطابق 2014 میں اسلام آباد پر چڑھائی کے بعد سے شہر کا گھیراؤ پی ٹی آئی کا بنیادی نکتہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک بار پھر اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کر رہی ہے اور اس کا واحد ایجنڈا ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
عمران خان کے کزن قاسم زمان کو تھری ایم پی او کے تحت نظر بند کر دیا گیا
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات ہیں، اس لیے پی ٹی آئی ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر مسائل کے حل کی طرف آئے۔ انہوں نے کہا کہ قانون قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختونخوا حکومت کے وسائل استعمال کر رہی ہے، جبکہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 اکتوبر سے اب تک پی ٹی آئی صرف چند ہزار افراد ہی جمع کر سکی ہے۔ ریاست کو یرغمال بنا کر کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کرایا جاسکتا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کو سمجھایا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ افغانستان سے متعلق پالیسی پر پوری قوم متفق ہے، تاہم ان کے مطابق صرف پی ٹی آئی اس پالیسی سے متفق نہیں ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ کسٹم اور پولیس کے شہدا کیا کسی سیاسی جماعت یا دوسرے صوبے سے تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز جاری رہیں گے۔



