اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ہم مذاکرات سے انکار نہیں کر رہے، تاہم مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک، قوم اور جمہوریت کے لیے مذاکرات کا کامیاب ہونا ضروری ہے، گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں لگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی اجازت دی جائے اور گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے ڈاکٹر لندن سے نہیں بلایا گیا بلکہ وہ لاہور میں بھی موجود ہوتا ہے۔
عمران خان کے کزن قاسم زمان کو تھری ایم پی او کے تحت نظر بند کر دیا گیا
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی مشروط پیشکش کی ہے جبکہ حکومت ان پر پابندیاں عائد کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی لوگ غیر مشروط طور پر بیٹھتے ہیں، مذاکرات سے انکار نہیں کیا لیکن مذاکرات غیر مشروط ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے باہر آکر اندر کی باتیں ڈسکس کیں، اگر جتنا وقت پریس کانفرنسز پر لگایا گیا اتنا وقت مذاکرات پر لگایا جاتا تو مسئلہ حل ہوجاتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان سے رابطے ہیں اور کوشش ہے کہ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ محسن نقوی سے رات کو کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ علامہ راجا ناصر عباس سے ملاقات کے لیے آئے تھے اور آل پارٹیز کانفرنس پر مشاورت کی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ علامہ راجا ناصر عباس نے درست کہا ہے کہ مشروط مذاکرات نہیں ہوتے، ہم نے بھی واضح کیا ہے کہ مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوں گے۔



