اسلام آباد: وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے پی ٹی آئی کی قیادت کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا اور خیبر پختونخوا حکومت وفاق سے الگ کوئی سکیورٹی پالیسی اختیار نہیں کر سکتی۔

باخبر ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت کو دوٹوک الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرے کو بیرونی جارحیت کا نتیجہ سمجھتی ہے، جبکہ پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کا جائزہ یہ ہے کہ غیر ملکی عناصر ملک میں دہشت گردی کی حمایت میں ملوث ہیں، جن میں بھارت کو مرکزی کردار کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وسیع تر خطرے کے پیش نظر اسرائیل کے کردار پر بھی بات کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایسی بیرونی جارحیت کے خلاف پاکستان کا ردعمل تشکیل دینا وفاق کی ذمہ داری ہے۔ سکیورٹی پالیسی وفاقی حکومت کی جانب سے عسکری اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے ساتھ وضع کی جائے گی اور صوبوں سے توقع کی جائے گی کہ وہ اس کی مکمل حمایت اور اس پر عمل درآمد کریں۔
سرکاری آمدن میں سالانہ بنیادوں پر 92 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ
پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ایک ذریعے نے کہا کہ جب ملک کو ایسے حالات کا سامنا ہو جنہیں بیرونی جارحیت قرار دیا جا رہا ہو تو مختلف صوبوں کے لیے الگ الگ سکیورٹی پالیسیاں تشکیل نہیں دی جا سکتیں۔
یہ پیغام وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان بڑھتی کشیدگی، بالخصوص سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے صوبائی حکومت کے طریقہ کار اور مرکز کے ساتھ اس کی سیاسی محاذ آرائی کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت کو بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں مسلسل دہشت گرد حملوں اور وسیع تر سکیورٹی خطرے کے پس منظر میں موجودہ حالات وفاقی حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ لہٰذا صوبائی سطح پر ایسا کوئی طریقہ کار جو قومی سکیورٹی پالیسی سے متصادم ہو، قابل قبول نہیں ہوگا۔
ذرائع نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو توقع ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ پی ٹی آئی کی قیادت تک یہ پیغام پہنچانے کا مقصد یہ واضح کرنا بھی تھا کہ مرکز اور صوبے کے درمیان سیاسی اختلافات کو سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریاست کے ردعمل کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ذرائع کے مطابق وفاق کا مؤقف ہے کہ جب بیرونی جارحیت کے خطرے کے خلاف قومی سکیورٹی پالیسی وضع کر دی جائے تو تمام صوبائی حکومتوں کو اپنی الگ پالیسیاں وضع یا اختیار کرنے کے بجائے اس کی حمایت کرنا ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے اقدامات سے ثابت کرے کہ وہ قومی سکیورٹی پالیسی کی مکمل حامی ہے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں سکیورٹی کے نظام کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
ذرائع نے واضح کیا کہ مرکز کے نقطۂ نظر سے اب یہ معاملہ محض اسلام آباد اور پشاور کے درمیان سیاسی اختلاف کا نہیں رہا بلکہ اسے قومی سلامتی کا معاملہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں پالیسی اور حکمت عملی کے حوالے سے حتمی اختیار وفاق کے پاس رہے گا۔



