Gas Leakage Web ad 1

آئی ایم ایف پٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر رضامند

0

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے، تاہم مطالبہ کیا ہے کہ اسکیم میں مزید صارفین کو شامل نہ کیا جائے۔

Gas Leakage Web ad 2

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے کے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف مشن نے میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسی کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے۔

آئی ایم ایف مشن کے ساتھ وزارت پٹرولیم اور پاور ڈویژن کے مذاکرات بھی جاری ہیں۔ آئی ایم ایف نے صوبوں کی رضامندی سے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے مرکز کی شوگر پالیسی کو صوبائی خودمختاری میں مداخلت قرار دیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ کے اختلاف کی وجہ سے شوگر پالیسی طے نہیں ہوسکی۔

آئی ایم ایف مشن کی وزارت خزانہ کے حکام سے آج دوبارہ ملاقات ہوگی۔ آئی ایم ایف نے آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ مشن پٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر رضامند ہوگیا ہے، تاہم اس کے ساتھ شرط رکھی گئی ہے کہ اسکیم میں مزید صارفین کو شامل نہ کیا جائے۔
سرکاری آمدن میں سالانہ بنیادوں پر 92 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ
اسٹاف لیول معاہدہ رواں ہفتے طے پانے کا امکان ہے۔ قرض پروگرام کی اگلی قسط کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہوگئے ہیں۔ چوتھے جائزہ مذاکرات میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، ٹیکس وصولیوں اور معاشی اہداف پر بات چیت جاری ہے۔ مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں رواں ہفتے اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف مشن نے میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسی پیش کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفد کی ایف بی آر اور وزارت پٹرولیم کے حکام سے ملاقاتیں ہوں گی، جن میں وزیراعظم کی فیول سبسڈی اسکیم، گیس ٹیرف اور توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے زیر بحث آئیں گے۔

تکنیکی سطح کے مذاکرات میں ایف بی آر نے رواں سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ آئی ایم ایف مشن نے اب تک کی پیش رفت اور جولائی سے ستمبر تک کے محصولات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اقتصادی ٹیم نے دسمبر 2026 تک نئے این ایف سی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

پاور سیکٹر کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کے باوجود آئی ایم ایف نے گردشی قرضے میں کمی، ڈسکوز کے نقصانات پر قابو پانے اور نجکاری کے لیے اقدامات پر زور دیا ہے۔ پالیسی سطح کے مذاکرات میں معاشی اصلاحات، ایف بی آر محصولات اور دیگر اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو چار فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جبکہ علاقائی کشیدگی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف مشن مجموعی جائزے کا اعلامیہ جاری کرے گا۔

بات چیت نامکمل رہنے کی صورت میں ورچوئل مذاکرات جاری رہیں گے۔ قرض پروگرام کی پانچویں قسط کا اجرا آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.