جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر فنانس نے انکشاف کیا ہے کہ یونیورسٹی کو دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے اور صورت حال برقرار رہی تو ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی رقم دستیاب نہیں ہوگی۔

قائم مقام وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر طفیل جوکھیو نے حکومت سندھ کی جانب سے گرانٹ دینے سے انکار کے باوجود ملازمین کو ہاؤس سیلنگ دینے کا فیصلہ کرلیا، جس کے لیے یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی سے منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی۔
نیشنل ہائی وے نیٹ ورک تقریباً 14 ہزار کلومیٹر ہے تو مریم کا پنجاب میں 45 ہزار کلومیٹر سڑکیں بنانے کا دعویٰ حیران کن ہے: مزمل اسلم
جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے مطابق ملازمین کو ہاؤس سیلنگ دینے پر ماہانہ 5 کروڑ روپے جبکہ سالانہ تقریباً 54 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
وائس چانسلر کے فیصلے پر ڈائریکٹر فنانس نے تحریری طور پر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں کہ ہر سال کروڑوں روپے ادا کیے جاسکیں۔ ان کے مطابق اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو یونیورسٹی کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی رقم دستیاب نہیں ہوگی۔
ڈائریکٹر فنانس کی رائے کے برخلاف قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو نے ملازمین کو ہاؤس سیلنگ دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا اور بیرون ملک دورے پر روانہ ہوگئے۔
واضح رہے کہ حکومت سندھ بھی ملازمین کی ہاؤس سیلنگ کے لیے جامعہ کراچی کو گرانٹ جاری کرنے سے انکار کرچکی ہے، جبکہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے بھی فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ملازمین کو ہاؤس سیلنگ دینے سے انکار کردیا تھا۔



