Gas Leakage Web ad 1

کم سے کم 6 سے زائد مسلم ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے خواہشمند ہیں، اسحاق ڈار

0

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر اور فلسطین پر پاکستان کا موقف ڈٹ کر پیش کیا، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 21 اور 22 ستمبر کو سعودی عرب پر 17 سے 18 حملے ہوچکے ہیں، پاکستان سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے، جبکہ کم از کم 6 سے زائد مسلم ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے خواہشمند ہیں، تاہم فی الحال ان ممالک کے نام بتانا مناسب نہیں ہوگا۔

Gas Leakage Web ad 2

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس ہوا، نیویارک کے دورے کے دوران ہر روز تقریباً 12 ملاقاتیں طے تھیں اور ایک مصروف ہفتہ گزرا۔ ان کے مطابق ایک ہفتے کے دوران سفارتی سطح پر کچھ حاصل کرنے کا موقع ہوتا ہے اور وزیراعظم نے اپنی تقریر میں پاکستان کا موقف اقوام متحدہ کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کیا۔
سکیورٹی فورسز کی پختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کشمیر اور فلسطین پر پاکستان کا موقف ڈٹ کر پیش کیا، امریکا ایران جنگ کے دوران پاکستان کی امن کی کوششوں سے دنیا کو آگاہ کیا اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کے حوالے سے پاکستان نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 12 سال بعد سلامتی کونسل میں تنازعات کے پُرامن حل سے متعلق پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی، جبکہ 47 سال بعد پاکستان نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا، اسلام آباد میں امریکا ایران کے درمیان 21 گھنٹوں پر مشتمل 6 نشستیں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی اور افغانستان سے دہشت گردی کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات سے دنیا کو آگاہ کیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میں تقریر بہت کامیاب رہی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جلد پاکستان آئیں گے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ حسب سابق رواں برس بھی امریکی صدر نے وزیراعظم کو عشائیے پر مدعو کیا اور وائٹ ہاؤس نے وزیراعظم کی امریکی صدر کے ساتھ تصاویر بھی جاری کیں۔ انہوں نے فلسطین کے معاملے پر 6 مسلم ممالک کی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو حرمین شریفین کے دفاع کے لیے جانیں نہ دے۔ ان کے مطابق ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ باہمی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے اور دوسرے مرحلے میں معاہدے کے ڈھانچے اور طریقہ کار کی تیاری جلد مکمل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں تین سال کے لیے پہلے سیکرٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 21 اور 22 ستمبر کو سعودی عرب پر 17 سے 18 حملے ہوچکے ہیں اور پاکستان سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے، جبکہ اقوام متحدہ کا چارٹر بھی اس طرح کے اتحاد کو کارروائی کی اجازت دیتا ہے اور نیٹو بھی اسی طرز پر کام کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے صدور نے اس مفاہمت پر دستخط کیے تھے، ایرانی حکام خود کو حوثی باغیوں سے الگ کررہے ہیں اور ایران نے حوثیوں اور عراقی ملیشیاؤں کو سیاسی طور پر مذاکرات کا مشورہ دیا ہے۔ اسحاق ڈار کے مطابق ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کی خواہش ہے کہ ایران امریکا معاملہ پُرامن انداز میں حل ہو۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان 11 برس قبل سے کاسا 1000 منصوبے کی تکمیل کا خواہشمند تھا اور افغانستان سے میگا ٹرین منصوبے کی تکمیل بھی چاہتا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان نے اس کے بدلے افغانستان سے کہا تھا کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے، تاہم موجودہ صورتحال سے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی نقصان ہوا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ کم از کم 6 سے زائد مسلم ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے خواہشمند ہیں، تاہم ابھی ان ممالک کے نام بتانا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان اپنے حق کا ایک قطرہ بھی نہیں چھوڑے گا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.