اپنے کسانوں سے گندم خریدنے میں ٹال مٹول اور مناسب قیمت دینے میں ناکام حکومت اب گندم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی منڈیوں کی محتاج ہوگئی۔ وفاقی حکومت نے ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
کسانوں سے گندم خریدنے میں حکومت کی عدم دلچسپی اور مناسب قیمت نہ دے کر اپنے کاشتکاروں کو مایوس کرنے والے حکمران اب ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیرونی منڈیوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ وفاقی حکومت نے گندم کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
نئے صوبوں کا معاملہ، تحریک انصاف کا مؤقف کیا ہے؟ اہم اعلامیہ جاری
گندم درآمد کرنے کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر جاری کردیا گیا ہے۔ ٹینڈر کی تکنیکی بولیاں 16 ستمبر کو بولی دہندگان یا ان کے مجاز نمائندوں کی موجودگی میں کھولی جائیں گی۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ساتھ پہلے سے معاہدے کی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے والی فرمز کو ٹینڈر میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ ایسی کمپنیوں کو ٹینڈر کھلنے سے پہلے واجب الادا رقم جرمانے سمیت ادا کرنا ہوگی۔ جن فرمز کے خلاف بلیک لسٹنگ کا عمل شروع ہوچکا ہو وہ بھی بولی میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔
درآمد کی جانے والی گندم میں سندھ کے لیے 3 لاکھ ٹن، پنجاب کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار ٹن جبکہ خیبرپختونخوا کے لیے 2 لاکھ ٹن مختص کی جائے گی۔ حکام کے مطابق ملک میں ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے درآمد کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ ساڑھے 7 لاکھ ٹن گندم کی درآمد سے مقامی مارکیٹ میں گندم کی دستیابی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت تقریباً 3 کروڑ 13 لاکھ ٹن ہے جبکہ گزشتہ سال گندم کی پیداوار 2 کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار ٹن رہی، یعنی ملکی پیداوار سالانہ کھپت سے تقریباً 17 لاکھ ٹن کم رہی۔ جولائی کے پہلے ہفتے تک پاسکو کے پاس بھی 17 لاکھ 8 ہزار ٹن گندم کا ذخیرہ موجود تھا۔