سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے نکالے جانے کے پسِ پردہ محرکات سے پردہ اٹھا دیا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی پر مشکل ترین وقت آیا، ایسے میں شیر افضل مروت نے میدان میں آکر ہر ضلع میں پارٹی مہم چلائی، جس سے کارکنوں کا حوصلہ بلند ہوا۔ انہوں نے سندھ اور بلوچستان میں بھی مہم چلائی، تاہم پنجاب پہنچنے پر انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
علی امین گنڈاپور کے مطابق شیر افضل مروت نے مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ دیا، لیکن سازشوں کے ذریعے انہیں پارٹی سے نکلوایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر انسان سے غلطی ہوسکتی ہے، اگر شیر افضل مروت سے کوئی بات کہی بھی گئی تو اس بنیاد پر انہیں ہٹانا مناسب نہیں تھا۔ ذاتی مفادات کے لیے معمولی باتوں پر پارٹی کے لوگوں کو عہدوں سے ہٹانے سے بانی پی ٹی آئی کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیر افضل مروت کے ساتھ پہلے پارٹی نے زیادتی کی اور پھر خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے بھی ان کے حلقے کے فنڈز کے معاملے پر مسائل پیدا ہوئے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ 27 ستمبر کے لیے پارٹی کو ان کے بجائے شیر افضل مروت جیسے شخص سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ان کے بقول عمران خان نے انہیں پارٹی سے ضرور نکالا ہوگا، تاہم انہیں کوئی عہدہ نہ دیا جائے، پھر بھی ذمہ داری ضرور سونپی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی کے لیے کسی کو منانے کی ضرورت نہیں، وہ دوسروں کے مقابلے میں عمران خان کے زیادہ قریب ہیں اور وقت آنے پر سب کو اس کا اندازہ ہوجائے گا۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ اگر 27 ستمبر کو پارٹی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکی تو یہ ایک بڑا دھچکا ہوگا، جبکہ تحریک ناکام ہونے کی صورت میں مخالفین کو اس کا بھرپور فائدہ پہنچے گا۔