ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد کی وائرل ویڈیو کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے، پولیس نے علی جعفری پر تشدد کرنے والے مبینہ ملزم ابراہیم کو حراست میں لے لیا ہے۔
متاثرہ نوجوان علی جعفری نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی جعفری نے بتایا کہ وہ دوستوں کے ساتھ ڈیفنس فیز 6 میں کھانا کھانے اور اپنے دوست علی فیصل کے ساتھ گیمنگ کے لیے گیا تھا، جہاں سے اسے گاڑی میں بٹھا کر لے جایا گیا اور تشدد کیا گیا۔
علی جعفری کے مطابق ملزمان مسلسل اس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے رہے اور پیسوں کا بھی تقاضا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ان کے والٹ اکاؤنٹ کو استعمال کیا اور اس کے ذریعے خریداری بھی کی۔
متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ تشدد کے دوران ایک شخص نے ان پر پستول تان رکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں تھا اور انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ ان پر تشدد کیوں کیا جا رہا ہے۔
علی جعفری نے بتایا کہ مقدمہ درج کرانے میں تاخیر کی وجہ انہیں اور ان کے اہلخانہ کو ملنے والی دھمکیاں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد دل کے مریض ہیں اور وہ صرف انصاف چاہتے ہیں۔
علی جعفری کے دوست نے بتایا کہ تشدد کے واقعے کی تمام تفصیلات ابھی سامنے نہیں لائی گئیں، تاہم ایف آئی آر میں تمام تفصیلات شامل کی جائیں گی۔ ان کے مطابق واقعے کے کئی روز بعد ملزمان کے اہلخانہ کی جانب سے معاملہ کمپرومائز کرنے کی کوشش کی گئی۔
دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے تصدیق کی ہے کہ علی جعفری پر تشدد کرنے والے مبینہ ملزم ابراہیم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ نوجوان کا بیان ریکارڈ کرلیا گیا ہے جبکہ علی جعفری کی مدعیت میں ساحل تھانے میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔