اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں مبینہ قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف درخواستوں کا فیصلہ ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا۔
علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان، جبکہ مبشرہ خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ایس سی او سربراہ اجلاس: پاکستان 27-2026 کیلئے صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم نے اعلامیے پر دستخط کردیے
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں جیل حکام کو بشریٰ بی بی سے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل یقینی بنائیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جیل قوانین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی فیملی سے ملاقات کرائی جائے اور عمران خان کی اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو بھی کرائی جائے۔
عدالت کے فیصلے میں عمران خان کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی آڈیو ریکارڈ کرکے اس کا غلط استعمال کیا گیا تو یہ سہولت واپس لے لی جائے۔ بانی پی ٹی آئی کو جیل رولز کے مطابق طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نصرت بھٹو کیس اور بیگم شمیم آفریدی کے فیصلوں کی روشنی میں درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عدالتی ہدایات پر عمل یقینی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ 15 دن میں عملدرآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔