کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے کہا ہے کہ وعدہ ہے کہ کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن کی کارروائی چلائیں گے۔
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہوا۔
جسٹس عمر سیال نے میر رضا کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بہیمانہ طریقے سے آپ کا بچہ آپ سے چھین لیا گیا، میں 10 برسوں سے قتل کیسز چلا رہا ہوں اور اہلخانہ کی تکلیف کا احساس ہے۔
ملک کے امن و امان کو کسی صورت سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: محسن نقوی
انہوں نے کہا کہ کچھ کریڈٹ وزیراعلیٰ سندھ کو بھی جاتا ہے، کمیشن میں جو کچھ ہوگا وہ سب کے سامنے ہوگا، جبکہ کمیشن کی کوشش ہوگی کہ اہلخانہ کے سوالات کے جوابات تلاش کیے جائیں۔
جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ انکوائری اور انویسٹی گیشن میں فرق ہوتا ہے، کمیشن ٹی او آرز کے مطابق تحقیقات میں نقائص، پولیس کی کارکردگی اور غفلت کا جائزہ لے گا۔ انویسٹی گیشن کرنا کمیشن کا کام نہیں، نہ وزیراعلیٰ اور نہ ہی کمیشن انویسٹی گیشن کرسکتے ہیں، ہم صرف غلطیوں کی نشاندہی کریں گے۔
جسٹس عمر سیال نے مزید کہا کہ سندھ حکومت سے کہا جائے گا کہ اشتہار دے کہ اگر عوام کے پاس کیس سے متعلق معلومات ہیں تو وہ شیئر کریں۔ معلومات سے متعلق اشتہار اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں شائع کرایا جائے، جبکہ حکومت کو یہ بھی کہا جائے گا کہ معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک لاکھ روپے انعام رکھا جائے۔
سربراہ کمیشن نے ہدایت کی کہ سندھ حکومت پولیس افسران اور ڈاکٹرز کی فہرست کمیشن کے سامنے پیش کرے، گواہان کے بیانات، میڈیکل رپورٹ اور اصل دستاویزات بھی پیش کی جائیں۔ کمیشن کے رجسٹرار کو جو سہولیات درکار ہیں وہ بھی فراہم کی جائیں۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن سب کے لیے کھلا ہے، جوڈیشل کمیشن روایتی کمیشن کی طرح نہیں چلایا جائے گا۔ وعدہ ہے کہ کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، کمیشن کی مدت کے دوران کسی سے ملاقات نہیں کروں گا، وزیراعلیٰ سندھ بھی ملنے آئے تو ان سے بھی ملاقات نہیں کروں گا۔
جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ اہلخانہ کی جانب سے دائر درخواست کا کمیشن سے کوئی تعلق نہیں، وہ درخواست اپنی جگہ چلتی رہے گی۔
اس موقع پر میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ جب نئی انویسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی تھی تو ہم نے کہا تھا کہ اسے کام کرنے دیا جائے۔ پچھلی انویسٹی گیشن ٹیم نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا، وزیراعلیٰ سندھ سے کہا تھا کہ پرانی انویسٹی گیشن ٹیم کی مجرمانہ غفلت کا جائزہ لیا جائے۔