پاکستان میں معاشی اصلاحات جاری رکھنے پر زور، آئی ایم ایف سربراہ کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بینکاک میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور جاری اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف سربراہ کو پاکستان اور فنڈ کے درمیان حالیہ اسٹاف لیول معاہدے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ توانائی، ٹیکس اور دیگر اہم شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔
اس موقع پر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ معاشی اصلاحات کا سلسلہ مسلسل جاری رکھے۔
امیتابھ کو پہلی بار دیکھا تو خطرہ محسوس کیا تھا: جیا بچن کا انکشاف
پاکستان کی معاشی ترقی سست رہنے اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ، آئی ایم ایف
دوسری جانب آئی ایم ایف نے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ 2026 جاری کر دی ہے، جس میں پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار سست رہنے اور مہنگائی میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ مالی سال 2027 میں یہ شرح کم ہو کر 3.5 فیصد تک محدود رہ سکتی ہے۔
آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح رواں سال 7.1 فیصد رہے گی، جو اگلے سال بڑھ کر 9.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ میں رواں سال بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد رہنے، جبکہ اگلے مالی سال کم ہو کر 6.5 فیصد ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد کے برابر رہنے کی توقع ہے۔
عالمی معیشت کی ترقی اور مہنگائی سے متعلق پیش گوئیاں
آئی ایم ایف کے مطابق عالمی معاشی ترقی کی شرح 2026 میں کم ہو کر 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، تاہم 2027 میں اس کے بڑھ کر 3.4 فیصد ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ عالمی سطح پر مہنگائی کی شرح 2026 میں بڑھ کر 4.7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ 2027 میں کم ہو کر 4.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی اور بدلتے معاشی حالات سے مطابقت نے عالمی معیشت کو مختلف بحرانوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دی ہے۔ تاہم توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو عالمی معاشی حالات کے باعث زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی تنازعات میں شدت، تجارتی کشیدگی، حکومتی مالیاتی مسائل اور مصنوعی ذہانت سے متعلق توقعات میں تبدیلی عالمی معاشی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس کے برعکس مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور عالمی سیاسی و تجارتی کشیدگی میں کمی سے معاشی ترقی کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔



