Gas Leakage Web ad 1

اگرصومالی قذاقوں کو تاوان دیا تو واقعات میں اضافہ ہوگا:طارق فضل

0

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ صومالیہ کے قزاقوں نے 3 ملین ڈالر تاوان مانگا ہے، اگر تاوان ادا کردیا جائے تو ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ فاروق ستار نے کہا کہ قزاق 3 ملین ڈالر مانگ رہے ہیں جو تقریباً 80 کروڑ روپے بنتے ہیں، ہم 22 کروڑ روپے دینے کو تیار ہیں تاہم باقی رقم کا انتظام حکومت کرے۔

Gas Leakage Web ad 2

قومی اسمبلی کے اجلاس میں صومالیہ میں پھنسے 10 پاکستانیوں کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صومالیہ میں 10 پاکستانی بحری قزاقوں کے قبضے میں ہیں، صومالیہ سے پاکستان کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں، تاہم جبوتی اور لندن کے سفارتخانوں کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
امریکا نے کم لاگت کروز میزائلوں کی تیاری بڑھانے کی کوششیں تیز کردیں
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ اس معاملے کو متحرک انداز میں دیکھ رہا ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ جلد یہ معاملہ حل ہو۔ ہم ہوا میں کوئی بات نہیں کرتے، دفتر خارجہ کے ذریعے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ یہ بحری جہاز ایسے علاقے میں ہے جہاں صومالی حکومت کی عمل داری نہیں، جبکہ پاؤلو نامی ملک، جس کا پرچم جہاز پر لگا ہوا ہے، وہ بھی اس جہاز کی ذمہ داری نہیں لے رہا۔ صومالیہ کے قزاقوں نے 3 ملین ڈالر تاوان مانگا ہے، اگر تاوان ادا کردیا جائے تو ایسے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

قومی اسمبلی میں عبدالقادر پٹیل کے طنزیہ سوال پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بھی طنزیہ جواب دیا، جس پر دونوں کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر کوئی رکن کسی اجلاس میں نہ ہو تو وہ پوچھ سکتا ہے، اجلاس میں آتے نہیں اور پھر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ عبدالقادر پٹیل نے جواب دیا کہ میں گزشتہ روز بھی اجلاس میں آغاز سے اختتام تک شریک تھا، جس پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر موجود تھے تو سمجھ کیوں نہیں آئی کہ میں نے کل تفصیلی جواب دیا تھا۔

فاروق ستار نے کہا کہ ہماری پارٹی کے ایم این ایز رقم دینے کو تیار ہیں، ہم 22 کروڑ روپے دیں گے اور باقی رقم کا انتظام حکومت کرے۔ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات میں ہم نے تاوان کی رقم ادا کی تھی، جبکہ ماضی میں تاوان کی رقم ادا کرنے کے لیے تاجروں سے بھی مدد لی گئی تھی۔ صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کے متاثرہ خاندانوں کو بتایا گیا کہ 5 سال تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، بتایا جائے کیا حکومت خاندانوں سے اظہار ہمدردی کر رہی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ متاثرہ جہاز تیل لے کر آرہا تھا، متاثرہ جہاز کا مالک یمن سے تعلق رکھتا ہے۔ اس جہاز کے بعد مزید چار جہاز بھی قبضے میں لیے گئے، جن کے عملے کو بھی یرغمال بنایا گیا ہے۔ قزاق 3 ملین ڈالر مانگ رہے ہیں، جو پاکستانی روپے میں تقریباً 75 سے 85 کروڑ روپے بنتے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.