مصطفیٰ کمال کا ملک میں مزید انتظامی یونٹس بنانے پر زور
ملتان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں مزید انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے 180 ممالک سے بڑا ملک ہے، اس لیے ملک میں مزید انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وفاق اور چار صوبوں پر مشتمل نظام عوامی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
حکومت کا پٹرولیم سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ، ڈیزل سستا کرنے پر غور
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صرف اسپتال بنانا کافی نہیں، شہریوں کی صحت کے لیے بنیادی اقدامات ضروری ہیں۔ ہیلتھ کیئر کا آغاز بچوں کی ویکسینیشن، صاف پانی اور بہتر سیوریج نظام سے ہوتا ہے، جبکہ ملک میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بڑی تعداد میں بچے متاثر ہو رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں شرح پیدائش زیادہ ہے اور ہر سال ہزاروں مائیں دوران زچگی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، جبکہ ملک کو لاکھوں نرسز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ہنر فراہم کرکے روزگار اور زرمبادلہ کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
دواؤں کی قیمتوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں کمی یا اضافہ وفاقی وزیر صحت کا براہ راست اختیار نہیں، ڈریپ نے کچھ ادویات کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کی ہیں جبکہ قیمتوں میں کمی کے لیے کابینہ کی سطح پر کمیٹی کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ادویات تیار ہوتی ہیں لیکن خام مال درآمد کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بعض اوقات ادویات مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں اور مریضوں کو مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ نظام مسائل کا حل نہیں دے رہا۔