Gas Leakage Web ad 1

حکومت کا پٹرولیم سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ، ڈیزل سستا کرنے پر غور

0

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نظام میں بڑی تبدیلی کی تجویز، ڈی ریگولیشن پر اتفاق

Gas Leakage Web ad 2

وزیراعظم کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی نے کنٹرولڈ نظام سے ڈی ریگولیٹڈ قیمتوں کے نظام کی جانب مرحلہ وار منتقلی پر اتفاق کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کا کریک اسپریڈ 70 ڈالر سے کم کرکے 35 سے 40 ڈالر فی بیرل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آئی ایف ای ایم اصلاحات کے تحت پٹرولیم ڈپو پوائنٹس کی تعداد 22 سے کم کرکے 11 کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق پاکستان کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مؤثر مسابقت کے ساتھ ڈی ریگولیشن سے صارفین کو نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ہائی آکٹین بلینڈڈ کمپوننٹ کی قیمتیں پہلے ہی ڈی ریگولیٹڈ ہیں، جس کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیاں قیمتوں میں مقابلہ کرتی ہیں اور صارفین کو بہتر سہولیات فراہم ہوتی ہیں۔

حکام نے بتایا کہ ٹیلی کام سیکٹر میں بھی لبرلائزیشن کے بعد سخت سرکاری قیمتوں کے نظام کی جگہ مسابقت نے لے لی، جس سے نرخوں میں کمی، خدمات میں بہتری اور جدت کو فروغ ملا۔

حکام کے مطابق اگر حکومت اپنا کردار مناسب ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وصول کرنے تک محدود رکھے اور قیمتوں کا تعین مسابقتی مارکیٹ پر چھوڑ دیا جائے تو صارفین کو کم قیمت، بہتر سروس اور زیادہ انتخاب کے مواقع حاصل ہوں گے۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے والی کمیٹی کا پانچواں اجلاس ہوا، جس میں ذیلی کمیٹیوں نے اپنی سفارشات پیش کیں۔
2026 ختم ہونے سے پہلے ہماری ٹیم قوم کو فتوحات کے تحفے دے گی، فخر زمان
اجلاس میں کے پی ایم جی نے خطے کے مختلف ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکس نظام کا تقابلی جائزہ پیش کیا، جبکہ شرکاء نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے، شفافیت میں اضافے اور قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کم کرنے کے اقدامات کو سراہا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اوگرا کی ویب سائٹ پر ڈیش بورڈ فعال کر دیا گیا ہے، جہاں روزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، قیمتوں کے تعین کا فارمولہ اور متعلقہ پلیٹس ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرولیم سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا پابند بنایا جانا چاہیے تاکہ شفافیت، ٹریس ایبلٹی، کارکردگی اور جوابدہی میں بہتری لائی جا سکے۔

اجلاس میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر عائد پابندی، مسابقت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ ڈھانچے پر اس کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ آئی ایف ای ایم پول کے نظام پر جامع نظرثانی کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔

ونڈ فال ٹیکس کے معاملے پر بھی غور کیا گیا، جس پر وزارت خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور پٹرولیم ڈویژن مشاورت کے بعد آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کریں گے۔

اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر این سی ایم سی لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت کمیٹی کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.