Gas Leakage Web ad 1

حکومت کا مینول سرنجز سے متعلق بڑا فیصلہ

0

وفاقی حکومت نے صحت عامہ کے تحفظ کے پیش نظر ملک بھر میں مینول سرنجز پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے باقاعدہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے، جسے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، تمام صوبائی حکومتوں، سرنج بنانے والی کمپنیوں اور امپورٹرز کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

حکم نامے کے مطابق یکم جنوری 2027 سے 10 سی سی سے کم حجم کی تمام مینول سرنجز کی تیاری، درآمد اور فروخت پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ مارکیٹ میں صرف آٹو لاک سرنجز فروخت کی جا سکیں گی۔

ڈریپ نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق انسولین سرنجز پر نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ ملک میں 2 اور 5 سی سی کی مینول سرنجز کے استعمال پر پہلے ہی پابندی نافذ ہے۔

نئے احکامات کے تحت سرکاری اور نجی اسپتالوں کو 10 سی سی مینول سرنج استعمال کرنے کی دی گئی رعایت بھی ختم کر دی گئی ہے، جبکہ مخصوص حجم کی مینول سرنجز سے متعلق یکم جولائی کا سابقہ نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ڈریپ نے تمام کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 31 دسمبر 2026 تک اپنی مینول سرنجز کو **سیفٹی انجینئرڈ ری یوز پریونشن (RUP)** سرنجز میں تبدیل کریں۔ اس کے علاوہ آٹو لاک سرنجز کی تیاری، درآمد اور فروخت کے لیے ڈریپ سے باقاعدہ اجازت لینا لازمی ہوگا۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق روایتی سرنجز پر پابندی اور آٹو لاک ٹیکنالوجی کی جانب منتقلی کا مقصد آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی روک تھام اور صحت عامہ کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو بھی فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.