Gas Leakage Web ad 1

گواہ کا بیان غلط ریکارڈ کرنےکا معاملہ، ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کالعدم قرار

0

(سٹاف رپورٹر/نیوز ڈیسک): اسلام آباد: سپریم کورٹ نے گواہ کا بیان غلط ریکارڈ کیے جانے سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کالعدم قرار دے دیے اور قرار دیا ہے کہ گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ ریکارڈ کرنا ٹرائل کورٹ کی قانونی ذمہ داری ہے، جبکہ منصفانہ ٹرائل کے لیے درست عدالتی ریکارڈ ناگزیر ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

سپریم کورٹ نے ویڈیو بیان اور تحریری ریکارڈ میں تضاد کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ ویڈیو ریکارڈنگ اور تحریری بیان کا باقاعدہ موازنہ کیا جائے اور بیان میں موجود غلطیوں کی تصحیح کے لیے 15 دن کے اندر کارروائی مکمل کی جائے۔

ملک بھر میں گیس کی فراہمی معمول کے مطابق جاری، سپلائی میں نئی کمی کی خبروں کی تردید

عدالت نے حکم دیا کہ تصحیح کے بعد مقدمے کا فیصلہ 30 ورکنگ دنوں میں کیا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 360(2) پر عمل نہ کرنا غیر قانونی ہے، گواہ کے اعتراضات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور شفاف و منصفانہ ٹرائل کے لیے درست ریکارڈنگ لازمی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تکنیکی بنیادوں پر انصاف سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور گواہ کا اصل بیان ہی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ ویڈیو ریکارڈنگ کو اصل شہادت سے مطابقت جانچنے کے لیے استعمال کیا جائے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت ہر شہری کو شفاف ٹرائل کا بنیادی حق حاصل ہے۔

یاد رہے کہ صنم عمرانی ایڈووکیٹ قتل کیس کی چشم دید گواہ نایاب عمرانی نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ماڈل کورٹ حیدرآباد نے اسلام آباد ای کورٹ سے ویڈیو لنک پر دیے گئے ان کے بیانات غلط ریکارڈ کیے، جبکہ ٹرائل جج نے قتل کے واقعے کی تاریخ بھی تبدیل کر دی۔

نایاب عمرانی نے پہلے اس معاملے پر سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم وہاں سے ریلیف نہ ملنے پر انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، جس پر عدالتِ عظمیٰ نے مذکورہ فیصلہ سنایا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.