لاہور ہائیکورٹ نے گندم خردبرد کیس میں ملزم کی گائے، بھینسیں اور نقد رقم ضبط رکھنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مویشی سپرداری پر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس طارق محمود باجوہ نے نثار احمد کی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سپرداری کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا۔
فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے خلاف ایک ہزار 24 بوری گندم میں مبینہ خردبرد کا مقدمہ درج تھا۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ تفتیشی افسر نے اس کی گائے، بھینسیں اور نقد رقم قبضے میں لے لی، جبکہ پولیس کا دعویٰ تھا کہ ملزم نے خردبرد کی گئی گندم فروخت کر کے یہ مویشی خریدے، اس لیے انہیں مالِ مقدمہ قرار دیا گیا۔
پاکستان مشکل وقت میں ایران کا حقیقی دوست ثابت ہوا: باقر قالیباف
عدالت نے قرار دیا کہ صرف پولیس کے دعوے کی بنیاد پر کسی جائیداد کو مالِ مقدمہ قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اسے جرم کی آمدن ثابت کرنے کے لیے ٹھوس، قابلِ قبول اور قابلِ اعتماد شواہد درکار ہوتے ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ تحقیقاتی افسر محض اپنی رائے کی بنیاد پر کسی چیز کو مالِ مقدمہ قرار نہیں دے سکتا، کیونکہ سپرداری سے متعلق فیصلہ کرنا عدالت کا اختیار ہے، تفتیشی افسر کا نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ شریک ملزم کا پولیس کے سامنے دیا گیا اعترافی بیان قانوناً قابلِ قبول شہادت نہیں۔ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ مبینہ طور پر خردبرد کی گئی گندم فروخت ہوئی، کتنی رقم حاصل ہوئی اور انہی پیسوں سے مویشی خریدے گئے۔
عدالت کے مطابق مویشیوں اور نقد رقم کو جرم کی آمدن ثابت کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد مواد موجود نہیں، لہٰذا صرف شریک ملزم کے بیان کی بنیاد پر انہیں مالِ مقدمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ سپرداری کے مرحلے پر دستیاب شواہد کی بنیاد پر ابتدائی اطمینان ضروری ہوتا ہے اور ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ درخواست گزار 30 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرا کے اپنے مویشی واپس حاصل کر سکتا ہے۔