اسلام آباد میں "سندھ طاس معاہدہ” کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سید مہر علی شاہ نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور پاکستانی قیادت بارہا واضح کر چکی ہے کہ پاکستان کے عوام کو دریائے سندھ کے پانی پر مکمل حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا ناقابل قبول ہے اور پاکستان ہر صورت اس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا۔ ان کے مطابق آج اس عزم کے اعادے کی ضرورت ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ہر صورت برقرار رہے گا۔
سٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روک دیا
مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی، زراعت، خوراک اور معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں مسائل کے حل کے لیے جامع طریقہ کار موجود ہے اور اس میں مجموعی طور پر 12 شقیں شامل ہیں، جبکہ دونوں فریقین کے لیے دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات کا تبادلہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق اگر فریقین کسی مسئلے کو باہمی طور پر حل نہ کر سکیں تو معاملہ ثالث کے پاس جاتا ہے، جبکہ معاہدے کی شق نمبر 9 کے تحت تنازع عالمی ثالثی عدالت میں بھی لے جایا جا سکتا ہے۔
مہر علی شاہ نے کہا کہ پاکستان متنازع بھارتی پن بجلی منصوبوں کے معاملات پر دو مرتبہ عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کر چکا ہے اور عدالت دو مرتبہ اس معاہدے کی تشریح اور وضاحت بھی کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت واضح طور پر قرار دے چکی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا، جبکہ عدالت نے بھارت کو مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کسی قسم کا خلل نہ ڈالنے کی ہدایت بھی دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل رکھنا معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور بھارت اگست 2023 سے اس معاہدے کے بعض تقاضوں پر عمل درآمد نہیں کر رہا۔