Gas Leakage Web ad 1

سندھ طاس معاہدہ امن کی کلید، اپنے حصے کے پانی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: پاکستان

0

اسلام آباد میں ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ‘‘ کے موضوع پر ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور مختلف ممالک کے مندوبین نے شرکت کی۔

Gas Leakage Web ad 2

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب ہماری اصل شناخت ہے اور دریائے سندھ صدیوں سے اس خطے کی تہذیب اور معیشت کی آبیاری کرتا آ رہا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ترجمان محمد اکبرزادہ کی ٹریفک حادثے میں پراسرار موت

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے اور دریائے سندھ کے پانی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ ان کے مطابق زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور پاکستان نے ہمیشہ اس معاہدے پر مخلصانہ عملدرآمد اور پرامن روابط کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنا ناقابل قبول ہے اور پاکستان ہر صورت اس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے اور پانی کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سید مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی، زراعت، خوراک اور معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں مسائل کے حل کا مکمل طریقہ کار موجود ہے اور اگر فریقین کسی مسئلے کو خود حل نہ کر سکیں تو معاملہ بین الاقوامی ثالثی عدالت تک لے جایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی ثالثی عدالت دو مرتبہ واضح کر چکی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔

سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت اگست 2023 سے معاہدے کے بعض تقاضوں پر عمل نہیں کر رہا اور دریاؤں کے پانی کے بہاؤ سے متعلق ضروری معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس سے پاکستان کے لاکھوں افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت دریائے چناب کے پانی کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے، اور پاکستان اپنے حصے کے پانی کو موڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانی کی عدم دستیابی نے کسانوں اور زراعت کو شدید متاثر کیا ہے اور یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا اور اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے اور اگر یہ معاہدہ برقرار نہ رہ سکا تو دنیا میں کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا۔

مصدق ملک نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت واضح کر چکی ہے کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کر سکتا اور نہ ہی پاکستان کے حصے کے پانی کا رخ موڑ سکتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور پانی کے مسئلے کو انصاف، بقا اور قومی سلامتی کا معاملہ سمجھتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.